پاکستان میں جمہوریت کی دعویدار جماعتیں جمہوریت کی اصل بنیاد یعنی مقامی حکومتوں سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ انہیں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے نام سے بخار چڑھ جاتا ہے۔ آج کل تو بخار کے ساتھ ساتھ کپکپی بھی طاری ہے۔ سندھ اسمبلی کا منظر ہی نہیں پنجاب، سندھ، اسلام آباد، بلوچستان، کے پی کے کوئی بھی مقامی حکومتوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے، حالانکہ آئین میں صاف لکھا ہے ” لوکل گورنمنٹ ” اور لوکل گورنمنٹ کا مطلب تو مقامی حکومتیں ہی ہے، لیکن ہمارے ” جمہوری بزرجمہروں ” کا یہ خیال ہے کہ حکومت تو صرف وفاق اور صوبے کی حکومتوں کو کہتے ہیں۔ یہ ” چھوٹے موٹے لوگ ” حکومتیں چلائیں گے؟ لیکن ایسے وقت میں انہی بزرجمہروں کے بیچ سے ایک آواز اٹھی ہے جو ن لیگ کے ایک سینئیر رہنما اور ایم ایس ایف کے سابق قائد خواجہ سعد رفیق کی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے جو کہا ہے وہ ہر جمہوریت پسند پاکستانی کے دِل کی آواز ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے آئین اور قانون میں کی جانے والی تبدیلیوں کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور میونسپل کارپوریشن کے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے مقامی حکومت کا نظام کمزور ہوگا اور بیورو کریسی مضبوط ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میئر کا انتخاب ” ون مین ون ووٹ ” کی بنیاد پر ہونا چاہیے تبھی مقامی حکومتوں کا نظام طاقتور ہوگا اور ڈلیور کر سکے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ ادوار میں بلدیاتی اداروں یا مقامی حکومتوں سے جو اختیارات چھین کر اداروں اور اتھارٹیز کو دیے گئے ہیں وہ واپس کیے جائیں، کیونکہ یہ اختیارات ان اداروں کے نہیں،بلکہ مقامی حکومتوں کے آئینی اختیارات ہیں۔ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ اور مالی خود مختاری دی جائے۔ صوبوں کی سطح پر اختیارات کا ارتکاز ختم ہونا چاہئے۔ صوبائی فنانس ایوارڈ (پی ایف سی) مرکز اور صوبے سے حاصل شدہ وسائل ضلعی سطح پر مقامی حکومتوں کو منتقل کئے جائیں اگر کسی ایک ہی شہر میں چھ چھ اتھارٹیز کام کریں گی تو کام نہیں ہوگا بلکہ کام خراب ہو گا۔با اختیار مقامی حکومتوں کے نظام کا قیام ہی اصل جمہوریت اور وقت کی ضرورت ہے۔ میونسپل کمیٹیوں،میونسپل کارپوریشنوں اور کنٹونمنٹ بورڈز کا کام کرنیوالے اداروں کا وجود آئین سے متصادم ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کوئی نئی بحث نہیں چھیڑی ہے۔ پاکستان میں مقامی حکومتیں صرف ” فوجی آمریتوں ” کے ادوار میں قائم ہوئیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کا مارشل لا ہو یا جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کا۔ انہوں نے بلدیاتی نظام دئیے اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کروائے۔ انہی بلدیاتی حکومتوں (مقامی حکومتوں) کے ذریعے عوام کو ریلیف ملا۔ مقامی حکومتوں کا سب سے بہتر نظام جنرل پرویز مشرف نے 2001ء میں دیا جو حقیقی معنوں میں مقامی حکومتوں کا نظام تھا۔ طاقتور ضلعی حکومت کے علاوہ تحصیل و ٹاؤن کی اپنی خود مختار حکومتیں تھیں۔ جبکہ گلی محلے کی سطح پر کام کرنے کیلئےطاقتور یونین کونسلیں بھی تھیں، مگر 2008ء میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں واپس آئیں تو انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے نظام کو صرف 2011ء تک برداشت کیا۔ کیونکہ جنرل مشرف کے نظام کو2011ء تک آئینی تحفظ حاصل تھا۔ اس کے بعد سے اب تک مقامی حکومتوں کا نظام مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے، حالانکہ اسے آئین پاکستان کے ٓارٹیکل ” 132 اور 140 اے ” کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ حالات یہ ہیں کہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کے نظام سے آہستہ آہستہ ہر کام جو ان کی ذمہ داری ہے چھینا جا رہا ہے۔ بلدیہ عظمی لاہور کا شعبہ باغات و پارک اس سے چھین کر پہلے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی لاہور قائم کی گئی اور اب اسے پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی میں تبدیل کرکے تمام بلدیاتی اداروں سے باغات چھین لئے گئے ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ لاہور کا شعبہ SWM ختم کرکے لاہور ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی بنائی گئی اور اب ستھرا پنجاب اتھارٹی قائم کرکے پنجاب بھر کے تمام بلدیاتی اداروں سے سینی ٹیشن چھین لی گئی ہے۔ مقامی حکومتوں کا ایک کام انفراسٹرکچر بھی ہے یعنی سڑکیں بنانا اور سینی ٹیشن ڈویلپمنٹ کرنا۔ یہ کام بھی اب مقامی حکومتوں سے چھین کر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بورڈ کو سونپ دیا گیا ہے۔ مثالی گاؤں پروگرام شروع کیا گیا ہے اور صوبے کے ہزاروں گاؤں میں ترقیاتی کام پنجاب حکومت ” خود کرے گی “۔ یعنی بلدیاتی حکومتوں کے ” ہاتھ پیر کاٹ دیے گئے ” ہیں۔ لاہور میں بلدیہ عظمی کا ” خاتمہ ” اس طرح بھی کیا گیا ہے کہ ایل ڈی اے کو ” آل پاور فل ” بنا دیا گیا ہے۔ ٹاؤن پلاننگ، کمرشلائزیشن، کنورژ ن، ماسٹر پلاننگ سب کچھ ایل ڈی اے کو سونپ دیا گیا ہے۔ لائسنس فیس تو پہلے ہی ختم کر دی گئی تھی۔ ریگولیشن ڈیپارٹمنٹ یعنی تجاوزات وغیرہ کے خاتمے کا نظام بھی ” پیرا فورس ” کو سونپ دیا گیا ہے۔ ایڈورٹائزمنٹ فیس، بورڈ فیس بھی بلدیہ عظمیٰ لاہور سے چھین لی گئی ہے۔جب سارے کام صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں نے ہی انجام دینے ہیں تو بلدیاتی الیکشن کروانے اور بے اختیار بلدیاتی ادارے بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ بلدیاتی انتخابات پر اربوں روپے خرچ کر کے بے اختیار منتخب نمائندے لانے کا کیا مطلب۔ سیدھی سی بات ہے اپ سپریم کورٹ کو یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ آئین کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرا دیے گئے ہیں۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کا خاتمہ کر کے لاہور کو نو ٹاؤن کارپوریشنوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یعنی اب کوئی سٹی کونسل نہیں ہو گی۔ماضی کی طرح یونین کونسلوں کے چیئرمین اب سٹی کونسل کے ممبر نہیں ہوں گے اور اپنے شہر کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔ اب نو ٹاؤن کارپوریشن ہوں گی اور وہ کتنی کمزور ہوں گی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی، راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر ڈویلپمنٹ اتھارٹیز محکمہ ہاؤسنگ یعنی وزیر ہاؤسنگ اور ان کے ذریعے براہ راست وزیراعلیٰ پنجاب کی ماتحت ہیں۔ یہ جتنی با اختیار ہوں گی اتنی مقامی حکومتیں کمزور ہوں گی۔
پاکستان میں انتخابی اور بلدیاتی نظام پر نظر رکھنے والے فافن کے سابق سربراہ اور فافن نیشنل کونسل کے ممبر زاہد اسلام کا اِس بارے میں کہنا ہے کہ یہ حکومتیں جو فیصلے کر رہی ہیں وہ سب سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پنجاب میں کونسلرز کی بحالی اور ایم کیو ایم کی طرف سے کراچی میں پانی کے نظام کو سندھ واٹر بورڈ کو سونپنے کے سندھ حکومت کے فیصلے کے حوالے سے دائر درخواستوں پر جو فیصلے دئیے تھے یہ سب اس کے منافی ہو رہا ہے۔

