پاکستان کرکٹ کے مسائل کی جڑ عاقب جاوید ہیں: جیسن گلیسپی

سڈنی (سپورٹس ڈیسک) پاکستان ریڈ بال کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کے معاملات پر کھل کر بول پڑے۔جیسن گلیسپی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ذمے اب بھی ان کے ہزاروں ڈالر واجب الادا ہیں، انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور آئندہ بھی نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خاموش رہ کر سب کچھ قبول کر سکتے تھے لیکن یہ ان کی فطرت نہیں، وہ ’’یس مین‘‘ نہیں ہیں۔ خاموش رہ کر تنخواہ گھر لے جا سکتے تھے، تاہم انہیں اندازہ تھا کہ چند ماہ میں برطرف کیا جا سکتا ہے۔

جیسن گلیسپی کا کہنا تھا کہ وہ عاقب جاوید کی جانب سے اپنے خلاف مسلسل منفی گفتگو سے تنگ آچکے ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ عاقب جاوید کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتِ حال دیکھ کر دل ٹوٹتا ہے، پاکستان کرکٹ ایک نقصان دہ چکر میں پھنس چکی ہے اور اس کے مسائل کی جڑ عاقب جاوید ہیں۔ پاکستان کرکٹ میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل انہیں کئی معاملات کے حوالے سے خبردار بھی کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں کوچنگ کے غیر مستحکم ماحول سے آگاہ تھے، تاہم پاکستان میں کوچنگ ان کے کیریئر کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک بن سکتی تھی۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ شاندار ہے اور یہاں لوگ کرکٹ کے لیے جیتے ہیں۔

جیسن گلیسپی کے مطابق انہوں نے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر کوچنگ قبول کی تھی۔ پاکستان میں فاسٹ بولنگ واپس لانا ان کے مینڈیٹ کا حصہ تھا اور وہ ایسی پچز تیار کرنا چاہتے تھے جو باؤنس اور فاسٹ بولنگ کو سپورٹ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ عاقب جاوید کی تقرری نے پورا منظرنامہ تبدیل کردیا، وہ پاکستان کرکٹ میں ہر چیز کے انچارج بن گئے تھے جبکہ سلیکشن کے معاملات میں بھی ان کا کوئی کردار نہیں رہا۔ پاکستان میں پورے تجربے نے انہیں کوچنگ سے بددل اور ذہنی طور پر متاثر کیا۔

سابق قومی ہیڈ کوچ نے الزام عائد کیا کہ عاقب جاوید نے پہلی ملاقات میں ہی اپنی بالادستی ظاہر کرنے کی کوشش کی اور وہ دوسروں کی رائے اور تجاویز قبول نہیں کرتے تھے۔ ان کے رویے کا مطلب تھا کہ ’’میری بات مانو یا راستہ چھوڑ دو‘‘، جبکہ چیئرمین اور بورڈ کی حمایت نے عاقب جاوید کو مزید مضبوط بنایا۔

جیسن گلیسپی نے کہا کہ ایسا ماحول کسی عزت دار شخص کے لیے قابل قبول نہیں، عاقب جاوید کا ان کے اور گیری کرسٹن کے معاہدوں پر تبصرہ کرنا ان کا کام نہیں تھا۔ گیری کرسٹن اور وہ پاکستان میں ٹریننگ کیمپس کے لیے وقت دینے کو تیار تھے۔

انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس ان کے ہیروز تھے، دونوں سے مل کر انہیں وہی محبت اور احترام محسوس ہوا، تاہم عاقب جاوید سے مل کر ایسا محسوس نہیں ہوا۔

جیسن گلیسپی نے پاکستان کے نئے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فیصلوں پر اعتماد کریں اور کسی کی ہاں میں ہاں ملانے والے نہ بنیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مائیک ہیسن صرف تنخواہ کی خاطر اس معاملے میں نہیں الجھیں گے۔