نایاب علی نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے اقدامات پیش کردئیے

جنیوا (ایجنسیاں) پنجاب کے شہر اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا حقوق کی کارکن نایاب علی نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سرکاری وفد کیساتھ شرکت کرتے ہوئے بچوں سے مشقت کے خاتمے، مزدوروں کے حقوق اور کام کی جگہوں پر تحفظ کے اقدامات سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

پاکستانی وفد نے 3 اور 4 نومبر کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے سامنے ملک کی دوسری دورانیہ وار رپورٹ کا جائزہ پیش کیا۔ وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کی، جبکہ وفاقی سیکریٹری برائے انسانی حقوق عبد الخالق شیخ، ڈاکٹر محمد عارف اور خواجہ سرا حقوق کی ماہر نایاب علی بھی وفد میں شامل تھیں۔

اجلاس میں بچوں سے مشقت کے حوالے سے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نایاب علی نے بتایا کہ ملک میں بچوں سے مشقت کی روک تھام، مزدوروں کے معائنے کے نظام کو مضبوط بنانے، کام کی جگہوں پر صحت و سلامتی بہتر بنانے اور خطرناک کاموں سے بچوں کو نکال کر تعلیم کی طرف لانے کیلئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔

نایاب علی کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں مزدوروں سے متعلق قانون سازی اور پالیسی سازی کی ذمہ دار ہیں۔ آئین کے آرٹیکلز 11، 17، 18، 25 اور 37 کے تحت مزدوروں کے حقوق، جبری مشقت کی روک تھام اور تحفظ کی بنیاد فراہم کی گئی ہے، جبکہ بچوں سے مشقت کے خلاف قانون میں 2022ء کی ترمیم کے ذریعے بچوں کو مشقت پر لگانے کے عمل کی سزا مزید سخت کی گئی۔

پنجاب میں مزدوروں کے معائنے کے نظام سے متعلق بتایا گیا کہ محکمہ محنت و انسانی وسائل میں 266 لیبر انسپکٹرز کام کر رہے ہیں، جن میں 45 خواتین شامل ہیں۔ صوبے میں جغرافیائی محلِ وقوع کے ذریعے معائنے کی نگرانی، بچوں سے مشقت کے مقدمات کے انتظام اور کارروائی کے لیے ڈیجیٹل نظام بھی فعال کیا گیا ہے۔

نایاب علی نے بتایا کہ پنجاب میں 2025ء کے دوران 3 لاکھ 95 ہزار معائنے کیے گئے، جن میں ایک لاکھ 68 ہزار خلاف ورزیاں سامنے آئیں اور 4 کروڑ 83 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ 2026ء میں اجلاس کے وقت تک تقریباً 3 لاکھ معائنے کیے جا چکے تھے اور خلاف ورزیوں پر 3 کروڑ 62 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔

کام کی جگہوں پر صحت اور تحفظ کے حوالے سے بتایا گیا کہ پنجاب میں خطرناک شعبوں کی نشاندہی، معائنے اور آگاہی مہمات شروع کی گئی ہیں۔ پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے قواعد 2025ء بھی 24 اکتوبر 2025ء کو جاری کیے گئے، جبکہ انسپکٹرز کی تربیت اور خطرات کی بنیاد پر معائنے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

سندھ سے متعلق نایاب علی نے بتایا کہ صوبے میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کا منصوبہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ضلع وار نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز سجاول سے ہوا۔ مجوزہ سندھ لیبر کوڈ میں ملازمت کی کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے اور خطرناک پیشوں کی فہرست 38 سے بڑھا کر 47 کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

خیبر پختونخوا کے بارے میں نایاب علی نے بتایا کہ صوبے میں بچوں کو ملازمت پر رکھنے کی ممانعت کے قانون 2015ء کے تحت 10 ہزار 567 معائنے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 6 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ صوبے میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کیلئے 2025ء کا عملی منصوبہ بھی نافذ کیا گیا ہے، جس میں معائنے بڑھانے اور بچوں کو خطرناک کاموں سے محفوظ رکھنے کے اقدامات شامل ہیں۔

نایاب علی کی سرکاری وفد میں شمولیت کو خواجہ سرا برادری کی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم وہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی کسی سرکاری وفد میں شامل ہونے والی پہلی خواجہ سرا نمائندہ نہیں ہیں، اس سے قبل عائشہ مغل 2020ء میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

پاکستان نے اجلاس میں اپنے انسانی حقوق کے وعدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔