واشنگٹن (رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی معاون اور نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کرنے کا اعلان کردیا، وہ 9 نومبر سے یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کرتے ہوئے اسٹیفن ملر کو اپنا قابلِ اعتماد مشیر قرار دیا۔ وہ موجودہ چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی جگہ لیں گے، جو وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوکر ٹرمپ کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق ٹیم میں ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
ٹرمپ نے سوزی وائلز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے شاندار کام کیا۔ سوزی وائلز نے بھی اپنے عہدے سے سبکدوشی کی تصدیق کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔
41 سالہ اسٹیفن ملر ٹرمپ انتظامیہ میں ملکی پالیسی کے اہم مشیر رہے ہیں اور حکومت کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری سے متعلق اقدامات بھی ان کی پالیسی سازی کا اہم حصہ رہے ہیں۔
یہ تقرری امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو شکست کے صرف 3 روز بعد سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کی۔ اسٹیفن ملر کی وائٹ ہاؤس کے اہم ترین انتظامی عہدے پر تعیناتی کو ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ پالیسیوں کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

