واشنگٹن (سی بی ایس نیوز، رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دبئی سے تل ابیب جانے والی اماراتی فضائی کمپنی کی پرواز کے کوپائلٹ کے ممکنہ ایرانی تعلق کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اس معاملے پر کام کر رہے ہیں اور جو کچھ انہیں معلوم ہوا ہے اس کی بنیاد پر کوپائلٹ کے ایران سے تعلق کا جواب ہاں میں ہوسکتا ہے۔
اس سوال پر کہ آیا ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کوپائلٹ کو پرواز میں بھیجا تھا یا وہ کسی اور طریقے سے انتہاپسند نظریات کا شکار ہوا، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔
واقعے میں دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے کوپائلٹ نے دورانِ پرواز کپتان پر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد طیارے نے تیزی سے بلندی کھوئی۔ مسافروں اور عملے نے کوپائلٹ کو قابو کیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ کوپائلٹ کے بارے میں معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انتہاپسند اسلامی نظریات سے متاثر ہوا تھا، تاہم ایران سے کسی تعلق کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد صورت حال مزید واضح ہوجائے گی۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے بھی واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ واقعہ دہشت گردی سے متعلق تھا، پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا یا اس کے پیچھے کسی بیرونی فریق کی ہدایت تھی۔
تاحال حکام نے کوپائلٹ کے ایران سے تعلق یا ایرانی ہدایات پر عمل کرنے کی تصدیق نہیں کی ہے اور واقعے کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔

