سڈنی (اے بی سی نیوز) یورپ کے مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکیوں کا سلسلہ آسٹریلیا تک پہنچ گیا، جہاں سڈنی ایئرپورٹ پر جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے آنے والی پرواز کے مسافروں کا استقبال مسلح پولیس اہلکاروں نے کیا۔
آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق جمعرات 5 نومبر کی شب آل نیپون ایئرویز کی پرواز این ایچ 899 ٹوکیو سے سڈنی پہنچی تو آسٹریلوی وفاقی پولیس کے مسلح اہلکار طیارے کے باہر موجود تھے۔ طیارہ رات تقریباً 8 بجے سڈنی ایئرپورٹ پر اترا تھا۔
پرواز میں سوار مسافر پیٹرک وائلڈ نے بتایا کہ مسافروں کو طیارے کے اندر ہی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ بعدازاں پولیس اہلکاروں نے انہیں قطار میں کھڑا ہونے اور اپنا سامان نیچے رکھنے کی ہدایت کی، جبکہ سونگھنے والے کتوں کی مدد سے سامان کی تلاشی لی گئی۔
آسٹریلوی وفاقی پولیس نے تصدیق کی کہ ایئرپورٹ کو دھمکیاں موصول ہونے کے بعد احتیاطی طور پر تلاشی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی شام 6 بجے کے بعد پیش آیا۔ حکام نے واضح کیا کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ سڈنی ایئرپورٹ کا واقعہ یورپ میں پروازوں کو ملنے والی دھمکیوں سے منسلک تھا یا نہیں۔
دوسری جانب یورپ میں بم کی جھوٹی اطلاعات کے باعث جمعرات کو کم از کم 27 پروازیں متاثر ہوئیں۔ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا، بعض پروازوں کو جنگی طیاروں نے حفاظتی حصار میں لیا، جبکہ مسافروں کو طیاروں سے اتار کر تلاشی لی گئی۔ تاہم کسی بھی متاثرہ طیارے سے دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
برطانیہ، اٹلی، فرانس، بلغاریہ، پولینڈ، جمہوریہ چیک اور دیگر یورپی ممالک میں مختلف پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔ حکام نے ان واقعات کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بعض دھمکی آمیز پیغامات میں روس کی ایک انتہا پسند تحریک ’’میل اسٹیٹ‘‘ کا نام استعمال کیا گیا، تاہم تفتیش کاروں نے تاحال اس گروہ کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ یورپی حکام نے بھی کسی ملک یا تنظیم کو ان واقعات کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

