ایران، امریکہ جنگ کے اثرات صرف مشرقی وسطیٰ اور برصغیر پر ہی مرتب نہیں ہوئے اِس سے دنیا بھر کے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں، خود امریکہ میں بھی مہنگائی ہوئی، پاکستان کی طرف سے برادر ممالک کے تعاون سے جو کوشش کی گئی وہ جنگ بندی کی حد تک تو کامیاب ہو گئی، لیکن حالات معمول پر آنے کی کوئی بھی شکل بنتی نظر نہیں آ رہی۔اس موقع پر بھی امریکی صدر اور ان کی کابینہ کے ہمنوا حضرات ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ایران اپنے ملک کی خود مختاری کیلئے ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ گو جنگ تو رکی ہوئی ہے لیکن امریکہ کی طرف سے معاشی اور اقتصادی لڑائی کا آغاز کر دیا گیا ہوا ہے۔آبناء ہرمز اور آبناء المندب کے حالات کے باعث پٹرولیم کے نرخ بڑھ چکے جو نیچے آنے کا نام نہیں لے رہے۔ صدر ٹرمپ تسلی دے رہے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو جائیگی اور ساتھ ہی ایران کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکی دے دیتے ہیں۔
اس صورتحال پر دنیا بھر کے ہر باشعور شخص کو تشویش ہے اور اس کا اظہار ہوتا بھی رہتا ہے لیکن امریکہ پر اثر نہیں ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ یوں تو خود مختارانہ فیصلوں کے دعویدار ہیں، لیکن فلسطین اور ایران کے حوالے سے وہ اسرائیلی عزائم کو پورا کر رہے ہیں اس کا عملی مظاہرہ ایران کے خلاف کارروائی سے ہی نہیں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی سے بھی ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے طمطراق سے غزہ کی تعمیر نو کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ غزہ بورڈ بھی بنا دیا اور خود ہی اس کے چیئرمین بن گئے اس کے بعد کان لپیٹ لئے ان تک غزہ کے معصوم بچوں کی آواز بھی نہیں آتی جو بھوک اور موسم کی سختیوں کے علاوہ ہر روز اسرائیلی بمباری اور صہیونی آباد کاروں کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اگرچہ برطانیہ سمیت بعض دوسرے یورپی ممالک نے اِس پر بات کی ہے لیکن عملی صورت یہ ہے کہ اسرائیل بے قابو ہے اور ٹرمپ کی حمائت کے سہارے مسلسل ظلم کر رہا ہے۔
میں نے عرض کیا کہ ایران، امریکہ جنگ سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے تو ایک اطلاع کے مطابق برطانیہ جیسا روایتی ملک بھی پریشانی کا شکار ہے۔ حکومت بے روزگاری تو تسلیم کر رہی ہے تاہم ابھی تک جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کا ذکر نہیں کیا جا رہا، حالت یہ ہے کہ بے روزگاری کے ساتھ ہی جرائم بڑھ گئے،نوبت یہاں تک آ گئی کہ اس برطانیہ میں جہاں کاریں ہیں اور گیراج نہیں اور رات کو ہر شہر کی ہر سڑک و سٹریٹ میں کھلی پارکنگ نظر آتی ہے وہاں گھروں کے گیراجوں سے کار چوری کی شرح اتنی بڑھ گئی ہے کہ پولیس نے چور اور گروہ تلاش کرنے سے ہاتھ اُٹھا لئے ہیں اور معاملہ مالک اور انشورنس کمپنی پر چھوڑ دیا ہے، پولیس صرف یہ دیکھتی ہے کہ چوری ہو نے والی گاڑی کمپری ہینسو انشورڈ ہے یا نہیں، اس کے بعد معاملہ انشورنس کمپنی اور مالک کار کے درمیان رہ جاتا ہے اور کارروائی کی تکمیل کے بعد کمپنی کار کے مالک کو چالیس فیصد تک انشورنس کی رقم دے دیتی ہے جس سے وہ اپنے پاس سے مزید رقم ڈال کر کوئی اور کار خریدنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
قارئین! حالات ہمارے اپنے بھی تو خوشگوار نہیں ہیں یہاں بھی جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے حتیٰ کہ ہراسانی اور معصوم جانوں کے استحصال میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے حتیٰ کہ خون سفید ہو گئے اور ماں بچوں کو،باپ بیٹے کو اور بیٹے والدین کو جان سے مار رہے ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری عفریت کی طرف منہ کھولے بڑھتی چلی آ رہی ہے،ان حالات میں ضرورت تو یہ ہے کہ ہم سب بلاامتیاز سر جوڑ کر بیٹھیں اور مل کر مسائل حل کریں لیکن ہم ہیں کہ اپنی 77سالہ روایات کو بڑھاتے اور پھیلاتے چلے جا رہے ہیں، برداشت ختم ہو چکی، ہمارے رہنماؤں کا یہ حال ہے کہ سبھی باتیں بہت کرتے عمل سے گریزاں ہیں،اس وقت دہشت گردی اور قدرتی آفات سے جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں اور ہمارے رہنما ہیں کہ مل کر بیٹھنے سے قاصر ہیں، کوئی بتا سکتا ہے کہ ان حالات میں جب گیس، بجلی اور توانائی (پٹرولیم) کے اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے تو عوام کہاں جائیں، کیا ان عوام کو نئے صوبوں، لانگ مارچوں اور مظاہروں سے کوئی لگاؤ ہے، یقین مانیئے ان دِنوں عام آدمی کی ملکی حالات سے لاتعلقی خطرناک حد تک جا چکی ہے، بڑے سے بڑا حادثہ بھی ان کو متاثر نہیں کرتا اور وقتی طور پر افسوس کا اظہار کر کے بھول جاتے ہیں۔
ایسے میں تحریک انصاف پھر سے لانگ مارچ،لانگ مارچ کر رہی ہے جس سے پورے ملک کے حالات پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں،اضطراب بڑھ گیا ہے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے نوجوان پُرجوش حضرات نے سنجیدہ فکر طبقے کی نہ مانی تو نہ صرف خود جماعت کو نقصان ہو گا بلکہ تصادم بھی ہو سکتا ہے جو حالاتِ حاضرہ میں کسی طور پر درست نہیں۔
ان حالات میں لازم ہے کہ ہر کوئی اَنا کے بت کو توڑ دے،غیر اہم اور اختلافی مسائل کو پس پردہ ڈال کر قومی یکجہتی کی بات کریں۔حکومت جس حد تک لچک دکھا سکتی ہے وہ ایسا کرے اور اپوزیشن کو بھی ملک کی خاطر اپنی ضد چھوڑ دینا چاہئے کہ قومی اتفاق رائے لازم ہے، دشمن تو ہر دم تاک میں ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا خود متاثر ہیں، حالات پنجاب اور سندھ تک بھی آ سکتے ہیں۔پنجاب کے سرحدی اضلاع میں تو کارروائیاں ہوئی ہیں یہ وقت ہے جب مل بیٹھ کر کھلے ذہن سے ملک کی خاطر فیصلے ہونا چاہئیں۔

