آٹزم سے متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی، ٹورانٹو سے برلنگٹن تک 60 کلومیٹر طویل واک

ٹورانٹو (اشرف خان لودھی سے) آٹزم سے متاثرہ بچوں اور افراد کی حوصلہ افزائی، ان کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی اور معاشرے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے چوتھی سالانہ 60 کلومیٹر طویل واک کا انعقاد کیا گیا۔ 12 اکتوبر کو ٹورانٹو سٹی ہال سے صبح 7 بجے شروع ہونے والی واک کے شرکاء پورا دن پیدل سفر کرتے ہوئے برلنگٹن پہنچے، جہاں برلنگٹن کی میئر ماریان میڈ وارڈ، سٹی کونسلرز اور مقامی نمائندوں نے ان کا استقبال کیا۔

واک کے منتظم قیصر صغیر نے شرکاء، میڈیا نمائندوں، آر ایم سی گروپ، نوجوانوں اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سرگرمی کا بنیادی مقصد آٹزم کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور آٹزم سے متاثرہ افراد کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ واک میں آٹزم اونٹاریو کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مارگی اور ادارے کے دیگر عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ واک کے دوران جمع ہونے والے تمام عطیات آٹزم اونٹاریو کو دیے جائیں گے تاکہ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی بہبود اور دیکھ بھال کیلئےکام کیا جا سکے۔

قیصر صغیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے دوست وِدھو نے ٹورانٹو سے برلنگٹن تک ان کے ساتھ پیدل سفر کیا۔ انہوں نے وِدھا خان کا خصوصی ذکر کیا، جو 2023 سے 2026 تک ہونے والی چاروں واکوں میں ان کے ساتھ شریک رہیں۔ ان کے دوست احمد شہزاد نے بھی گزشتہ دو واکوں میں شرکت کی۔ قیصر صغیر نے آر ایم سی گروپ کے نوجوانوں، برامپٹن سے آئے ڈنسٹن اور دیگر شرکاء کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب نے مل کر اس تقریب کو کامیاب بنایا۔حاجی جمیل کا خصوصی شکریہ ادا کرتاہوں.

انہوں نے آٹزم اونٹاریو کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مارگی کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جو صبح ساڑھے پانچ بجے سے اس سرگرمی میں موجود تھیں۔ قیصر صغیر نے کہا کہ آٹزم سے متاثرہ افراد کی حمایت میں کام کرتے کرتے اب یہ سب ایک خاندان کی طرح بن گئے ہیں۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کی خدمات کے اعتراف میں باربی کیو کا اہتمام کریں گے۔

قیصر صغیر نے واک کے دوران پیش آنے والے ایک تجربے کو اپنی زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس مرتبہ پہلی بار آٹزم سے متاثرہ ایک بچہ ٹورانٹو سٹی ہال سے اپنے خاندان کے ہمراہ واک میں شریک ہوا اور ان کے ساتھ تقریباً 14 سے 15 کلومیٹر پیدل چلتے ہوئے آئزلنگٹن تک پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ان کیلئےبہت اہم بات تھی، کیونکہ وہ آٹزم سے متاثرہ افراد کے حقوق اور معاشرتی شمولیت کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایسے بچے کا قدم سے قدم ملا کر چلنا ان کیلئےخوشی اور حوصلہ افزائی کا باعث بنا۔ قیصر صغیر کے مطابق بچے اور اس کے خاندان کو پیچھے چھوڑنے کا احساس دلانے سے بچنے کیلئے انہوں نے اپنی رفتار کم رکھی اور بچے کی ضروریات کے مطابق وقفے کیے۔ اسی وجہ سے سفر میں توقع سے زیادہ وقت لگا اور شرکاء برلنگٹن پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئے۔

آٹزم اونٹاریو کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مارگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے میں آٹزم سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ تک ہے اور قیصر صغیر کی جانب سے مسلسل چوتھے سال اس واک کا انعقاد قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال واک کا فاصلہ بڑھانا اور آٹزم سے متاثرہ کسی فرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ ایسے افراد اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا حقیقی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

مارگی نے کہا کہ یہ واک معاشرے کی توجہ، قبولیت اور آٹزم سے متاثرہ افراد کیلئےقدر و احترام کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ ان کے بقول، معاشرے کو یہ جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آٹزم سے متاثرہ افراد ہمارے پڑوسی اور ہماری برادری کا حصہ ہیں۔ ان کیلئےایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں وہ رکاوٹوں کے بغیر معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں، کیونکہ اس مقصد کے حصول میں ہر فرد کا کردار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہوئی کہ قیصر صغیر ان کے پڑوسی بھی ہیں اور دونوں ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں۔ مارگی نے واک کے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں آٹزم سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کیلئےمعاشرے میں قبولیت اور شمولیت کے پیغام کو مضبوط کرتی ہیں۔

واک کے منتظمین کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد صرف طویل فاصلہ طے کرنا نہیں بلکہ آٹزم سے متاثرہ بچوں اور افراد کے ساتھ عملی یکجہتی کا اظہار، ان کے خاندانوں کی مشکلات کو سمجھنا اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کیلئےکوشش کرنا ہے جہاں ہر فرد کو برابر مواقع اور احترام حاصل ہو۔