لندن (ایجنسیاں) برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کو 30 روز میں بند کرنے کے حکم کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
برطانوی وزیرِ خارجہ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کے فیصلے پر ردِعمل کا اظہار کیا۔ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ دہشت گرد قابضین فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرتے ہیں، جبکہ فلسطینیوں کی بے دخلی پر اسرائیلی حکومت آنکھیں بند کیے رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کے خلاف آواز اٹھانا درست ہے، برطانیہ خاموش یا غیر فعال نہیں رہ سکتا تھا، اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانا برطانیہ کے لیے ضروری تھا۔
برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دو ریاستی حل اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کی سلامتی اور وقار کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کیلئے بھی انتہائی اہم ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی اشیاء پر پابندی عائد کرنے سے قبل برطانوی یہودی گروہوں اور فلسطینی نمائندوں سے ملاقاتیں کی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث افراد اور اداروں پر مزید پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔

