جنسی جرم کا مقدمہ، سابق امریکی فلم پروڈیوسر ہاروی وائن اسٹائن کو 15 سال قید کی سزا

نیویارک (ایسوسی ایٹڈ پریس، الجزیرہ، گارڈین) سابق امریکی فلم پروڈیوسر ہاروی وائن اسٹائن کو نیویارک کی عدالت نے سابق ٹی وی پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی سے متعلق جنسی جرم میں 15 سال قید کی سزا سنادی۔

74 سالہ وائن اسٹائن کو 2006 میں مین ہٹن کے اپنے اپارٹمنٹ میں مریم ہیلی پر جنسی حملے کے جرم میں گزشتہ سال دوبارہ ہونے والے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2020 میں اسے اسی مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی، تاہم 2024 میں نیویارک کی اعلیٰ عدالت نے مقدمے میں بعض گواہیوں کو شامل کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے اس کی سزا منسوخ کرکے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا تھا۔

سزا سنانے سے قبل مریم ہیلی نے عدالت میں متاثرہ فرد کا بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سات برس کے دوران انہیں ہراسانی، بدنامی اور شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور انہیں کئی مرتبہ انصاف کے حصول کی کوشش ترک کرنے کا خیال آیا۔

استغاثہ کی نمائندہ نکول بلمبرگ نے عدالت سے وائن اسٹائن کو 20 سال قید اور رہائی کے بعد 5 سال نگرانی کی سزا دینے کی درخواست کی تھی، جبکہ دفاع نے اس کی صحت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے 9 سال قید کی درخواست کی۔

وائن اسٹائن نے عدالت میں مریم ہیلی سے متعلق افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی، تاہم اس نے مجموعی طور پر جنسی زیادتی کے الزامات سے انکار برقرار رکھا ہے۔

وائن اسٹائن کو 2020 میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جب جیوری نے اسے مریم ہیلی سے جنسی زیادتی اور اداکارہ جیسیکا مان سے زیادتی کے جرم میں مجرم قرار دیا تھا۔ 2024 میں یہ سزا منسوخ ہونے کے بعد دوبارہ مقدمہ چلا، جس میں ہیلی سے متعلق جرم میں دوبارہ سزا ہوئی، جبکہ جیسیکا مان سے زیادتی کے الزام پر بعد کی کارروائی میں جیوری کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی اور استغاثہ نے مقدمہ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

وائن اسٹائن کو کیلیفورنیا کے ایک الگ مقدمے میں بھی زیادتی اور جنسی حملے کے جرم میں سزا ہوچکی ہے اور وہاں سزا پر دوبارہ غور ہونا ہے۔ نیویارک کے جج کرٹس فاربر کے مطابق دونوں ریاستوں کی سزاؤں کے بیک وقت یا یکے بعد دیگرے نافذ ہونے کا فیصلہ کیلیفورنیا کے حکام کریں گے۔

وائن اسٹائن کیخلاف 2017 میں سامنے آنے والے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے الزامات نے عالمی سطح پر ’’می ٹو‘‘ تحریک کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔