دُکھ یاد کرنے کیلئے نئے سانحہ کی ضرورت!

ہم کیسے لوگ ہیں کہ ہمیں کسی گذرے سانحہ کو یاد کرنے کیلئےنئے حادثے کا انتظار رہتا ہے کہ ہم دُکھ اور افسوس کا اظہار کریں اور ماتم کر سکیں۔ محرم الحرام کے تقدس والے مہینے میں منگل کو کاہنا میں مکان کی چھت گرنے سے نیا المیہ ہوا، ٹیوشن پڑھتے ہوئے معصوم بچوں پر افتاد پڑی اور اس مکان کی چھت ہی گر گئی جس کے سایہ تلے یہ غریب بچے مستقبل کیلئےایک اچھا انسان بننے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ ایک ٹیوشن سنٹر تھا جہاں ایک خاتون معمولی فیس کے عوض قریباً35 بچوں، بچیوں کو پڑھا رہی تھی یہ سب بچے ایک دوسرے کے اعزہ میں تھے،دُکھ والی بات تو یہ ہے کہ چھت گری بچے اور استانی دب گئی۔ ریسکیو کو اطلاع ملی وہ موقع پر پہنچ گئے ان سے پہلے خود محلے دار ملبہ ہٹا کر امدادی کارروائی میں مصروف تھے ریسکیو والے آئے،کام مہارت سے شروع ہوا اور نتیجہ خیز ثابت ہو گیا۔ بتایا گیا کہ19بچے زندہ سلامت نکال لئے گئے جبکہ 14 بچے اور بچیاں جنت کو روانہ ہو گئے۔کہا جاتا ہے کہ چھ بچے زخمی بھی ہیں، ان کے سمیت استانی بھی زیر علاج ہیں۔

دُکھ دینے والا حادثہ ہے، قدرتی طور پر انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی کہ حادثہ دارالحکومت میں ہوا،اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے، ہر کسی نے اپنے اپنے حوالے سے بات کی اور سبھی دفاعی پوزیشن پر تھے اور پھر وزیراعلیٰ نے بھی تو نوٹس لے لیا۔محکموں نے بھی پھرتی کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹوں کو لٹکا دینے والے محکمہ تعلیم کے اہلکاروں نے فوری رپورٹ تیار کی اور بھیج دی، اس کے مطابق یہ ٹیوشن سنٹر محکمہ کے پاس رجسٹر نہیں تھا اور نہ ہی محکمہ کے پاس کوئی قواعد ہیں کہ ایسے نجی ٹیوشن سنٹر رجسٹرڈ ہوں اب یہ ضلعی انتظامیہ کو سوچنا چاہئے کہ اب کیا کِیا جائے،اسی جگہ جلد پہنچنے والے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس(آپریشن) نے بتایا کہ چھت پر سے مٹی کم ہو گئی تھی چھت گارڈروں والی تھی، پولیس تفتیش کر رہی ہے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔محلہ داروں کے مطابق چھت پر ٹائلیں لگانے کا کام ہو رہا تھا۔ مالک کے خیال میں مون سون سے پہلے چھت کی مرمت ضروری تھی۔وزیراعلیٰ نے کہا ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور ان کی وزیر اطلاعات نے بھی دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی ٹیوشن سنٹروں سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

اس سانحہ اور اس پر آنے والے بیانات، اعلیٰ حکام کا موقع پر پہنچنا، مضروب بچوں کو بہترین طبی امداد کی ہدایات اور احکامات سے مجھے ماضی قریب کا حادثہ جانکاہ یاد آ گیا۔ ضلع ڈیرہ غازیخان میں ایک نجی سکول کی چھت گری، درجن سے زیادہ بچے جاں بحق ہوئے اور بیسیوں زخمی ہوئے،تب بھی افسر موقع پر پہنچے،وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا، مالک گرفتار ہوئے، پھر سوال وجواب تنقید و جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر حکم دیا گیا کہ پورے صوبے میں سروے کیا جائے اور تعلیمی اداروں کی عمارت کا جائزہ لے کر مخدوش عمارتوں کو گرایا جائے۔ یہ سب مجھے ازبر یاد ہے تاہم یہ عرض بھی ہے کہ میں ایک دو بار گذارش کر چکا کہ احکام دیئے جائیں تو ان کا فالو اَپ بھی ہو،کیا وزیراعلیٰ اب متعلقہ اداروں، حکام اور افسروں سے یہ رپورٹ لیں گی کہ ڈیرہ غازیخان کے حادثہ کے بعد کتنے سروے، کس پیمانے پر ہوئے اور کتنی مخدوش عمارتیں دریافت کر کے بچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کیے گئے؟ یقینا جواب نفی میں ہو گا کہ ہمارے تو عمل اور خون میں ”مٹی پاؤ“ فارمولا رچ بس گیا ہے۔وزیراعلیٰ اگر تجربہ کرنا چاہیں تو متعلقہ محکموں سے شجرکاری کی تفصیلات منگوا لیں یہ دریافت کریں کہ گذشتہ دس سالوں میں کس کس محکمہ نے ساون اور موسم بہار کی شجرکاری مہموں کے دوران کتنے کتنے پودے کہاں کہاں لگائے اور ان میں سے کتنے پودے درخت بنے،سب سامنے آ جائے گا، کہ اب ساون آ رہا اور شجرکاری شروع ہونے والی ہے۔

ذکر سانحہ کاہنا کا تھا، سب کچھ روایتی انداز میں ہوا،جن کے بچے وفات پا گئے اُن کے زخم تو ہرے رہیں گے،ہم سب دُکھ کا اظہار کر کے پھر بھول جائیں گے جیسے ڈیرہ غازیخان والے سانحہ کو بھول گئے۔

میں اپنے جاننے والے حضرات کیلئے یاد کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے یہاں کرامت علی شیخ(مرحوم) ڈائریکٹر جنرل پنجاب پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ ہوئے اُن کے پاس ایک فارمولا تھا جس کا ذکر قریبی دوستوں سے کرتے تھے، مجھے وہ یاد آ رہا ہے لیکن تحریر کرنا مناسب نہیں۔

عرض صرف یہ ہے کہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری آئینی طور پر حکومت کی ہے،اسے پورا کرنا حکومت ہی کا فرض ہے۔ تعلیم کا شعبہ بالکل ٹھیک ہو تو ترقی یافتہ ممالک کی طرح ٹیوشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔