نانا پاٹیکر سے متعلق بیان پر تنوشری دتہ کی حمایت، سندھیا مریدول بھی بول پڑیں

ممبئی (ہندوستان ٹائمز، انڈین ایکسپریس)بالی ووڈ اداکارہ سندھیا مریدول نے سینئر اداکار نانا پاٹیکر کی موت کے بعد تنوشری دتہ کے متنازع بیان پر ان کی حمایت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی شخص کی موت کے بعد اس کے مبینہ ناروا سلوک سے پہنچنے والی تکلیف بھی ختم ہوجاتی ہے؟

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق سندھیا مریدول نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ کیا کوئی شخص مرنے کے بعد ظالم نہیں رہتا؟ کیا اس کی جانب سے پہنچائی گئی تکلیف ختم ہوجاتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد اس تکلیف کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور وہ ہمیشہ متاثرین کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔

سندھیا مریدول نے اپنی پوسٹ میں کسی کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے بیان کو تنوشری دتہ کے حق میں حمایت قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی شخص کی موت سے اس کے مبینہ ناروا رویے کی حقیقت خودبخود ختم نہیں ہوجاتی اور عوامی سطح پر خراجِ عقیدت پیش کرتے وقت ان افراد کے تجربات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جو اس سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر کی موت کے بعد انہیں ’’شیطان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے لیے یہ شیطان کی موت ہے۔ اس بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید ہوئی، جبکہ آل انڈیا سینی ورکرز ایسوسی ایشن نے بھی اسے نامناسب قرار دیا تھا۔

تنوشری دتہ نے 2018ء میں می ٹو مہم کے دوران الزام لگایا تھا کہ 2008ء میں فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر نے انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

مارچ 2025ء میں ممبئی کی عدالت نے اس مقدمے میں تنوشری دتہ کی درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت کے مطابق مبینہ واقعے کے طویل عرصے بعد شکایت دائر کیے جانے کے باعث قانونی میعاد کا مسئلہ درپیش تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کو الزامات کے درست یا غلط ہونے کا حتمی عدالتی تعین قرار نہیں دیا جاسکتا۔