ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ بہیمانہ اور بلاجواز حملوں اور اس پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں بے یقینی اور عدم استحکام کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ عالمی توانائی منڈی میں اس کشیدگی کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، اور پاکستان جیسے کمزور معاشی ڈھانچے والے ممالک پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی بے یقینی کے ماحول کے باعث حکومت نے شدید گھبراہٹ میں پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان امڈ آیا۔ اس صورتحال میں ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ متاثر عام آدمی ہی ہوا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔
اسی پس منظر میں وزیر اعظم کی جانب سے کفایت شعاری کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی، بیرونِ ملک دوروں پر پابندی، سرکاری تقریبات کو محدود کرنے اور دفتری اوقات میں تبدیلی جیسے اقدامات بظاہر مثبت دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات واقعی معیشت اور عام آدمی کی مشکلات پر کوئی دیرپا اثر ڈال سکیں گے، یا یہ محض وقتی اور نمائشی فیصلے ثابت ہوں گے جو ماضی کی طرح چند ماہ بعد پس منظر میں چلے جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کفایت شعاری کو کبھی ایک مستقل قومی پالیسی کے طور پر اختیار نہیں کیا گیا۔ ہر بحران کے وقت چند ہنگامی فیصلے کر دیے جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی حالات معمول پر آتے ہیں یہ اقدامات بھی خاموشی سے ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر ملک میں مالی نظم و ضبط اور قومی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کا ایک مستقل نظام موجود ہو تو ایسے حالات میں گھبراہٹ کے عالم میں فوری اور غیر دانشمندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت جس دباؤ کا شکار ہے، اس میں وقتی اقدامات کے بجائے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ماضی میں بھی کفایت شعاری کے کئی اعلانات ہوئے، مگر ان پر عملدرآمد محدود رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سرکاری نظام میں کرپشن، فضول خرچی، غیر ضروری مراعات اور وسائل کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے لیے کوئی مضبوط اور مؤثر نظام موجود نہیں۔
سرکاری محکموں میں گاڑیوں اور ایندھن کے بے جا استعمال کی مثال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بعض اداروں میں ایک ہی افسر کے زیر استعمال متعدد گاڑیاں ہوتی ہیں۔ ایک دفتر آنے جانے کے لیے، دوسری اہلِ خانہ کے لیے اور تیسری گھریلو ضروریات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ چھٹی کے دنوں میں بازاروں اور سیاحتی مقامات پر سینکڑوں سرکاری گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یہ نہ صرف قومی وسائل کا ضیاع ہے بلکہ سرکاری نظام میں عدم احتساب کی واضح علامت بھی ہے۔ اگر حکومت واقعی کفایت شعاری کو سنجیدگی سے نافذ کرنا چاہتی ہے تو سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے حوالے سے واضح اور سخت قانون سازی کی جانی چاہیے۔ ہر ادارے میں محدود تعداد میں سادہ گاڑیاں رکھی جائیں اور ان کا استعمال صرف سرکاری امور تک محدود ہو۔ جدید ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے ان کے استعمال کی نگرانی کی جائے تاکہ قومی وسائل کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
اسی طرح حکومتی شخصیات کے لیے لگژری طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ مرکز اور صوبائی حکومتوں کے عہدیداروں کے لیے نئے جہاز، ہیلی کاپٹر اور مہنگی گاڑیوں کی خریداری پر قانونی پابندی ہونی چاہیے۔ جو طیارے یا ہیلی کاپٹر پہلے سے موجود ہیں ان کا استعمال بھی صرف ناگزیر سرکاری ضرورت تک محدود ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے حالیہ عرصے میں ایسے فیصلے بھی سامنے آئے ہیں جو کفایت شعاری کے تصور کے بالکل برعکس ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب حکومت کی جانب سے تقریباً بارہ ارب روپے مالیت کا ایک لگژری طیارہ خریدنے کی خبر سامنے آئی جس نے ایک غریب ملک میں حکومتی ترجیحات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ اسی طرح ماضی میں ایک وزیراعظم روزانہ دفتر آنے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے جبکہ بعض وزرائے اعلیٰ شادیوں اور سالگرہوں جیسی نجی تقریبات میں شرکت کے لیے بھی سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایسے طرزِ عمل سے عوام میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور حکومتی کفایت شعاری کے دعوے غیر سنجیدہ محسوس ہوتے ہیں۔
ایک اور سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات سرکاری وسائل کو براہِ راست سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک صوبے کے سرکاری وسائل تو ایک طویل عرصے سے جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل کو سیاسی یا ذاتی ایجنڈوں کے لیے استعمال کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ ریاستی وسائل کے بدترین ضیاع کی بھی ایک مثال ہے۔ اس طرح کے عمل کی روک تھام کے لیے واضح قانون سازی اور سخت احتساب ضروری ہے۔
ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ سرکاری افسران ،ججوں اور جرنیلوں کو دورانِ ملازمت ہی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بے شمار مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان مراعات میں سرکاری گاڑی، ڈرائیور، نوکر، مفت بجلی، گیس اور فون جیسی سہولیات شامل ہوتی ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں اس نوعیت کی مراعات کا تصور بھی موجود نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری عہدہ کسی شخص کو شاہانہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی تمام غیر ضروری مراعات کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے اور سرکاری عہدوں کو مراعات کے بجائے ذمہ داری اور جواب دہی کی علامت بنایا جائے۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اس حوالے سے قابلِ تقلید مثالیں پیش کرتے ہیں۔ ڈنمارک، ناروے، نیدرلینڈز اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں وزرا اور اعلیٰ حکام عموماً عام گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور اکثر اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں۔ کئی یورپی ممالک میں سرکاری ڈرائیور کا تصور بھی انتہائی محدود ہے۔ ان ممالک میں حکومتی سادگی، شفافیت اور مالی نظم و ضبط ریاستی نظام کا مستقل حصہ ہیں، جس کی وجہ سے قومی وسائل کا ضیاع کم سے کم ہوتا ہے۔
پاکستان میں بھی اسی طرز کے اصول اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزرا اور اعلیٰ افسران کے لیے سادہ گاڑیوں کا استعمال لازمی قرار دیا جا سکتا ہے، لگژری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور سرکاری ڈرائیوروں کی تعداد کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سرکاری محکموں میں خریداری کے نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔ اکثر غیر ضروری خریداری اور مہنگے ٹھیکوں کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خریداری کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور آزاد نگرانی کے مؤثر نظام کے تحت انجام دیا جائے۔
سرکاری تقریبات، عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مستقل پابندی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح سیمینار اور کانفرنسز کو پرتعیش ہوٹلوں کے بجائے سرکاری عمارتوں یا تعلیمی اداروں میں منعقد کیا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ حکومتی سادگی کا عملی پیغام بھی سامنے آئے گا۔
توانائی کے شعبے میں بھی بچت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سرکاری دفاتر میں سولر توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور غیر ضروری بجلی اور گیس کے استعمال کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل گورننس بھی کفایت شعاری کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر سرکاری خدمات کو زیادہ سے زیادہ آن لائن کر دیا جائے تو نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ عوام کو بھی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں سرکاری امور کے لیے ای میل اور آن لائن نظام بنیادی ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اب بھی کاغذی کارروائی اور دفتری چکر عام ہیں۔
آخر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان کو وقتی اعلانات کے بجائے مستقل مالی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی قومی وسائل کو بچانا اور عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے سادگی، شفافیت اور سخت احتساب کو حکومتی نظام کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔ جب تک حکومتی قیادت خود سادگی کی مثال قائم نہیں کرے گی اور فضول خرچی کے دروازے بند نہیں کرے گی، اس وقت تک کفایت شعاری کے یہ اعلانات عوام کے لیے محض خبروں تک محدود رہیں گے۔ قومی وسائل کی حفاظت صرف بیانات سے نہیں بلکہ مستقل اور جرات مندانہ اصلاحات سے ہی ممکن ہے۔

