معصوم جانیں، جنگی جرائم اور قانون

جب تنازعات میں عام شہری اور بچے مارے جائیں تو بین الاقوامی قانون کا نفاذ بلا استثنا ہونا چاہیے۔جب کسی اسکول پر بمباری ہوتی ہے اور معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو یہ سانحہ محض چند قیمتی جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا وہ قوانین جنہیں انسانیت نے عام شہریوں کے تحفظ کے لیے وضع کیا تھا نظر انداز کر دیے گئے ہیں یا ان کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے؟

حال ہی میں ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردانہ بمباری کے دوران ایک اسکول پر حملے میں 165 بچوں کی ہلاکت ہوئی، جبکہ بڑے پیمانے پر شہری جانی نقصان اور ضروری بنیادی ڈھانچے، جیسے پانی کی فراہمی کے نظام اور صحت کے مراکز، کو نقصان پہنچنے کی مصدقہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ جب عام شہری، خصوصاً بچے، جنگ کا نشانہ بنیں اور وہ نظام تباہ کر دیے جائیں جو انسانی زندگی کو سہارا دیتے ہیں تو معاملہ محض عسکری حکمتِ عملی کا نہیں رہتا۔ یہ قانون، جوابدہی اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا سوال بن جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے اس صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں “عام شہریوں کی نمایاں تعداد ہلاک ہوئی ہے اور شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا ہے”، جبکہ خطے کے عوام پہلے ہی مسلسل تنازعات اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے سے گزر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس اسکول پر بمباری کو “بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ تعلیمی اداروں پر حملے طلبہ اور اساتذہ کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان قانونی تحفظات کو بھی کمزور کرتے ہیں جو بین الاقوامی انسانی قانون فراہم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے اس “ہولناک” واقعے کی فوری، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ تشویش محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ان بنیادی اصولوں کی یاد دہانی ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیاد ہیں۔ یہی وہ قانونی نظام ہے جو مسلح تنازعات کے دوران جنگ کے طریقۂ کار کو محدود کرتا ہے اور عام شہریوں کو اس کے تباہ کن اثرات سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جنگ کے قوانین اسی لیے وجود میں آئے کہ شدید ترین حالات میں بھی کچھ حدود باقی رہیں جنہیں انسانیت کبھی عبور نہ کرے۔

ان اصولوں کی بنیاد ایک سادہ مگر غیر متزلزل حقیقت پر قائم ہے: عام شہری کبھی بھی حملے کا ہدف نہیں بن سکتے۔ اسکول، ہسپتال اور دیگر شہری اداروں کو دانستہ نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ بنیادی ڈھانچہ جو انسانی بقا کے لیے ناگزیر ہے، جیسے پانی کے نظام، صحت کے مراکز، طبی سہولیات اور ضروری عوامی خدمات، اس انداز میں تباہ نہیں کیا جا سکتا کہ پوری آبادی خطرے میں پڑ جائے۔ یہی اصول جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کے وسیع تر ڈھانچے کی اساس ہیں۔

قانونی ذمہ داریاں واضح ہیں۔ جنیوا کنونشنز زخمی افراد، جنگی قیدیوں اور عام شہریوں کے لیے خصوصی تحفظات فراہم کرتے ہیں اور “سنگین خلاف ورزیوں” کی تعریف ان مضامین میں کی گئی ہے جنہیں عموماً آرٹیکل 50، 51، 130 اور 147 کے طور پر حوالہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیٹوٹ کے تحت عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانا جنگی جرم شمار ہو سکتا ہے، جیسا کہ آرٹیکل 8 میں بیان کیا گیا ہے، جس میں جنگ کے قوانین اور روایات کی دیگر سنگین خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔

کوئی بھی ریاست، خواہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ان قوانین سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ کوئی بھی سیاسی رہنما، خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، معصوم جانوں کے ضیاع پر جوابدہی سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ بین الاقوامی قانون کی اصل قوت اسی میں مضمر ہے کہ وہ طاقت کو حدود میں رکھے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنگ کے نتائج سب سے زیادہ تباہ کن ہوں۔

جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ بچے ان جگہوں پر مارے گئے جہاں انہیں تعلیم اور تحفظ ملنا چاہیے تھا، اور جب شہری بنیادی ڈھانچہ، جیسے پانی کے نظام اور صحت کے مراکز جو کمیونٹیز کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں، تباہ یا نقصان کا شکار ہو جائے، تو بین الاقوامی قانون کی حیثیت ایک سخت امتحان سے دوچار ہو جاتی ہے۔ ایسے الزامات کے سامنے خاموشی یا بے حسی ایک خطرناک پیغام دیتی ہے: کہ طاقتور قوتوں کے سیاسی یا فوجی مقاصد کے سامنے عام انسانوں کی زندگیاں قربان کی جا سکتی ہیں۔

تاریخ ہمیں بارہا یاد دلاتی ہے کہ بے قابو فوجی طاقت کے نتائج کس قدر ہولناک ہو سکتے ہیں۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کی جنگوں نے ایسے معاشرے جنم دیے جو بکھر گئے، زخمی ہوئے اور گہرے اجتماعی صدمے سے دوچار ہوئے، جبکہ عام شہریوں نے سب سے بھاری قیمت ادا کی۔ ویتنام، عراق، لیبیا اور افغانستان کی جنگیں اس حقیقت کی واضح مثال ہیں کہ جب طاقت کو جوابدہی کا سامنا نہ ہو تو اس کے انسانی نتائج نہایت بھیانک ہو سکتے ہیں۔

ماضی کے اسباق واضح ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد نورمبرگ ٹرائلز میں ایک ایسا اصول قائم کیا گیا جس نے بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کو نئی شکل دی: جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ دار افراد کو ان کے عہدے یا حیثیت سے قطع نظر ذاتی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہی اصول بعد میں بین الاقوامی ٹریبونلز کے قیام اور بالآخر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کی بنیاد بنا۔

اگر معصوم بچوں کا خون بھی قانون کو حرکت میں نہ لا سکے تو پھر قانون کی اصل معنویت کیا رہ جاتی ہے؟

اسی لیے شہریوں پر حملوں کے الزامات کی تحقیقات آزادانہ، معتبر اور شفاف ہونی چاہئیں۔ شواہد محفوظ کیے جائیں، حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے اور جہاں بھی ثبوت لے جائیں وہاں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ اقدامات نہ صرف متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کے لیے ضروری ہیں بلکہ خود بین الاقوامی قانون کی ساکھ کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔

بچوں کی جانوں کو کبھی محض “ضمنی نقصان” کی سرد اصطلاح تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پانی اور صحت کے مراکز تک رسائی کو کبھی جنگ کا ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔ عام انسانی زندگی کی بنیادوں کو تباہ کرنا سیاسی یا عسکری مقاصد کی قابلِ قبول قیمت نہیں بن سکتا۔

جنگ میں شہریوں کا تحفظ کوئی سیاسی ترجیح نہیں بلکہ ایک عالمگیر انسانی ذمہ داری ہے۔ ہر بچے کی زندگی برابر قیمتی ہے اور ہر شہری کو مسلح تنازعات کے ہولناک اثرات سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کی ساکھ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اسے کس حد تک مستقل مزاجی اور دیانت کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے۔تاریخ ہماری نسل کا فیصلہ ہماری طاقت سے نہیں بلکہ اس بات سے کرے گی کہ جب قانون نے تقاضا کیا تو کیا ہم نے معصوموں کا دفاع کیا۔