’ مہاجر سیاست‘ دربدری کا شکار

میں نے بحیثیت طالب علم بھی اور صحافی کے طور پر بھی ایم کیو ایم کو ’ مہاجر‘ سے ’ متحدہ‘ قومی موومنٹ بننے اور پھر تقسیم ہوتے قریب سے دیکھا ہے۔ اس سیاست کا خود شہری سندھ کے خاص طور پر اردو بولنے والوں یا مہاجروں کو کتنا فائدہ یا نقصان ہوا اس بحث کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھتے ہیں ۔ آج اس کے بطن سے جنم لینے والے’ گروپس‘‘ مزید تقسیم کی جانب رواں دواں ہیں مگر شاید یہ فیصلہ بھی وہ خود کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں البتہ اپنا اپنا مقدمہ ’ایمپائر‘ کے سامنے پیش کررہے ہیں دیکھتے ہیں آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ اب یہ بات کسی کو اچھی لگے یا بری، حقیقت یہی ہے کہ آج تک پاکستان میں شاید ہی کوئی جماعت ہو جس سے نکل کر کوئی گروپ اس سے آگے نکلا ہو، مقبولیت میں۔ ہماری پوری ایک تاریخ ہے سیاسی تقسیم کی ،بانی پاکستان مسلم لیگ سے لیکر ہربڑی سیاسی جماعت چاہے وہ پی پی پی ہو، نیشنل عوامی پارٹی ہو خود مسلم لیگ(ن) ہو یا پاکستان تحریک انصاف، عام طور پر ایسی تقسیم کا نتیجہ اس کے کارکنوں کی ’ سیاسی دربدری‘ ہوتی ہے اور نقصان نہ صرف اس جماعت کاہوتا ہے بلکہ مجموعی طور پر سیاست کا بھی۔

قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کی بنگال اور مغربی پاکستان کی قیادت میں تقسیم کے نتیجے میں جو مزیدتقسیم کا عمل شروع ہوا تو شاید ہی کسی جماعت کے اتنے گروپس دیکھنے کو ملے ہوں جتنے اسکے، جس طرح اس نام ’ مسلم لیگ‘ کا استعمال ہوا ہے کسی اور جماعت کا نہیں۔ اب اس جماعت کے بنیادی حامیوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق ان اردو بولنے والے ’ مہاجرین‘ سے تھا جو پاکستان اور مسلم لیگ کا نعرہ ،لگاتے اپنی زمین چھوڑ کر نئے خواب لیکر یہاں آئے ۔اب جو پنجاب یا سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں گئے وہ وہاں کے ماحول میں ضم ہوگئے مگر جو اکثریت صوبہ سندھ میں آئی وہ ایسا نہیں کر پائی۔ ان میں ایک تو پڑھی لکھی ’ اشرافیہ کلاس تھی جس نے ابتدائی20سال میں وقت کے حکمرانوں کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ بعض بنیادی سیاسی، معاشی اصلاحات میں بھی اہم کام کیا۔ دوسری طرف اردو بولنے وا لے وہ لوگ تھے جو مجموعی طور پر یا تو مسلم لیگی تھے یا پھر دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف گئے جیسے جماعت اسلامی اور جے یوپی کی طرف راغب ہوئے جبکہ بائیں بازو کا نظریہ رکھنے والوں کے لیے نیشنل عوامی پارٹی سے بہتر خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگنے کے بعد کوئی دوسری جماعت نہ تھی بعد میں انہی میں سے کئی لوگوں نے پی پی پی کی حمایت کی خاص طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی پر کشش شخصیت اس میں اس جماعت کا منشور اور ’اینٹی انڈیا‘ بیانیہ نےبھی پنجاب اور کراچی میں اپنا رنگ دکھایا۔ البتہ پی پی پی کے1972ءمیں برسراقتدار آنے کے بعد اردو بولنے والوں کی ایک غالب اکثریت نے مذہبی جماعتوں کو انتخابی فائدہ تو دیا مگر اس کے ساتھ ہی شہری اور دیہی سندھ کی سیاسی تقسیم نے دراصل خود صوبہ سندھ کو ناقابل تلافی سیاسی ومعاشی نقصان پہنچایا ۔1977ءکی پی این اے تحریک میں سب سے زیادہ حصہ ’ شہری سندھ‘ کا نظر آتا ہے مگرخود جماعت اسلامی کے اکابرآنے والے وقت کی سیاسی تقسیم سے بے خبر بس ’ بھٹو کو اقتدار سے بے دخل ‘ کرنے کی مہم میں اتنا آگے چلے گئے کہ مارشل لا کی حمایت سے بھی گریز نہ کیا اور یہ ’ اتحاد‘کسی نہ کسی شکل میں بھٹو کی پھانسی تک برقرار رہا اور اس کی پھانسی کے بعد جنرل ضیاء کو جماعت کی خاص ضرورت نہیں رہی اور یہیں سے سندھ کی سیاست اور پنجاب کی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔

پنجاب میں کاروباری لوگوں کو سیاست میں لایا گیا اور جاگ پنجابی جاگ کی سیاست کی گئی جبکہ سندھ میں جنم لینے والے ’ لسانی تضادات‘ کو سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ اسی سیاسی فضا نے ’ مہاجر سیاست‘ کو جنم دیا جس کیلئے شاید جماعت اسلامی بھی تیار نہیں تھی۔

اب ایم کیو ایم کسی ردعمل میں وجود میں آئی یا کسی سیاسی عمل کو روکنے کے لیے لائی گئی حقیقت یہ ہے کہ اس کو شہری سندھ کی غالب اکثریت نے ووٹ دیا البتہ بھٹو کی پھانسی کے سیاسی اثرات شہری سندھ میں بھی محسوس کیے گئے جس کی ایک واضح مثال اسکے بعد ہونیوالے دو بلدیاتی الیکشن 1979ء اور 1983ء کے ہیںجن میں ڈپٹی میئر پی پی پی کا آیا جبکہ میئر جماعت کا دوسری طرف سائیں جی ایم سید جنرل ضیاء کی حمایت کے باوجود اپنی جماعت کو پی پی پی کے مقابل نہ لاسکے اور یہ سیاسی خلا آج بھی کوئی پر نہ کر سکا البتہ تجربات بہت ہوئے اور اب بھی ہورہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب بانی متحدہ الطاف حسین اور جی ایم سید نے ’ پنجاب کی اشرافیہ‘ کے خلاف اتحاد کیا مگر یہ طرز سیاست کچھ حلقوں کو پسند نہ آیا اور’ حیدر بخش چوک‘ کی ایک غلط فہمی نے سندھ کو خوفناک لسانی فسادات میں دھکیل دیا۔ایم کیو ایم کو تقریباً 40 سالہ سیاسی سفر میں عروج بھی ملا اور مواقع بھی، اقتدار کے سفر میں بھی وہ لوگ حصہ دار رہے اور عملاً شہری سندھ کے ’ بادشاہ‘ بھی ،تنظیمی طور پر اس میں جماعت اسلامی سے زیادہ تنظیمی صلاحیت نظر آئی، مڈل کلاس ’گلیوں سے ایوانوں‘ تک گئی مگر وہ اس غیر معمولی حمایت کو سنبھال نہ سکے اور پھر آہستہ آہستہ ایک فاشسٹ انداز حاوی ہو گیا ،جس کا سب سے زیادہ نقصان خود انہیں ، ان کے حامیوںاور شہری سندھ کو ہوا۔ اس میں جہاں ان کی اپنی سیاست ذمہ دار ہے وہاں ان سے یہ ’سیاست ‘ کروانے والے بھی جنرل ضیاء سے جنرل مشرف تک۔ اور پھر جب کام ہوگیا تو جو شاید کسی اور جماعت کے نصیب میں نہیں آئی غیرعلانیہ پابندی بھی اور غیر علانیہ طور پر کالعدم بھی۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے بطن سے جتنے بھی گروپس بشمول ایم کیو ایم (پاکستان) پی ایس پی، بہادر آباد، پی آئی بی یا ماضی میں حقیقی اور یہاں تک کے ’ مائنس بانی‘ کاعظیم طارق فارمولہ خود ان کی جان لے گیا۔’لندن‘ کو ایک طرف رکھیں بھی تو ایم کیو ایم(پاکستان) میں اقتدار کی رسی کشی جاری ہے کچھ لوگ اچانک منظر عام پر آرہے ہیں، کچھ جیل سے تو کچھ روپوشی سے باہر آگئے ہیں مگر عوامی سطح پر کیا خالد مقبول صدیقی یا مصطفیٰ کمال یا انیس قائم خانی پارٹی کی گم شدہ مقبولیت کو واپس لاپا ئیںگے۔ یہ بدقسمتی سے خود ان کے ہاتھ میں بھی نہیں جس طرح آفاق احمد غلط یا صحیح ’ مہاجر‘ نام کے ساتھ جڑے رہنےکے باوجود ’ مہاجروں‘ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ رہ گئی بات اس شہر کی تو وہ کل بھی لاوارث تھا آج بھی لا وارث ہے البتہ اس کے نام پر سیاست نے کئی عمارتیں اور محل تعمیر کروادیے ۔