اونٹاریو (اشرف خان لودھی سے)پاکستانی فلم اداکارہ میرا کو کینیڈین امیگریشن حکام نے نیاگرافال بارڈر پر کئی گھنٹے پوچھ گچھ کے بعد ملک میں داخلے سے روک دیا اور واپس امریکا بھیج دیا۔ اداکارہ نیویارک سے کینیڈا میں ایک شو میں شرکت کے لیے جارہی تھیں۔
میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے میرا، جن کا اصل نام سیدہ ارتضیٰ رباب ہے، نے بتایا کہ امیگریشن حکام نے انہیں کئی گھنٹے روکے رکھا اور بنیادی نوعیت کے سوالات کیے، تاہم انہیں اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ کینیڈا میں داخلے سے روکنے کی اصل وجہ کیا تھی۔
میرا کی والدہ شفقت زہرا بخاری کے مطابق، کینیڈین امیگریشن حکام کے ساتھ گفتگو کے دوران ایک بار پھر انگریزی زبان کا مسئلہ درپیش آیا، حالانکہ میرا نے بات چیت میں سہولت کیلئے اردو مترجم کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں۔

اداکارہ نے شبہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے کسی نے ان کے خلاف بدنیتی پر مبنی شکایت کی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کیلئے حقائق کی تصدیق کررہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق میرا اس سے قبل اپنی فلم ’’سائیکو‘‘ کی تشہیر کے لیے کینیڈا کے شہر کیلگری گئی تھیں، جہاں انہوں نے اسٹیج پر بھی پرفارم کیا تھا۔ بعض اطلاعات میں قیاس کیا گیا ہے کہ گزشتہ دورے کے دوران پرفارمنس کی اجازت سے متعلق کوئی معاملہ موجودہ صورتِ حال کی وجہ ہوسکتا ہے، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
میرا کو اس سے قبل برطانیہ میں بھی امیگریشن مسائل کا سامنا رہا ہے۔ میڈیا نے فروری 2025ء میں رپورٹ کیا تھا کہ برطانوی حکام نے ان کے داخلے پر 10 سال کی پابندی عائد کی تھی، جو بعدازاں ختم ہوگئی، تاہم ان کی نئی ویزا درخواست مبینہ طور پر درخواست میں غلط معلومات فراہم کیے جانے کے باعث مسترد کردی گئی تھی۔
جولائی 2025ء میں میرا نے برطانوی حکام سے ویزا جاری کرنے کی اپیل بھی کی تھی تاکہ وہ لندن میں زیرِ علاج اپنی بہن سے ملاقات کرسکیں۔کینیڈا میں داخلے سے روکنے کے تازہ واقعے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکیں اور کینیڈین امیگریشن حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید وضاحت سامنے آنے کا انتظار ہے۔

