چین سے سبقت کی دوڑ، امریکا میں مصنوعی ذہانت کی رفتار اور سلامتی پر بحث تیز

واشنگٹن (بین الاقوامی میڈیا) امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں قومی سلامتی اور ٹیکنالوجی کے تحفظ سے متعلق خدشات پر بحث تیز ہوگئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو مصنوعی ذہانت کی جنگ جیتے گا، وہی حقیقی طور پر جیتے گا، انہوں نے اس مقابلے میں چین کو مرکزی حریف قرار دیا۔

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈے بھی مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی پر زور دیتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار صرف اتنی کم کرسکتا ہے جس سے چین سے پیچھے رہنے کا خطرہ پیدا نہ ہو۔

ڈیریو اموڈے چین کو جدید چپس اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی فراہمی پر سخت برآمدی پابندیوں کے حامی ہیں، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے ان کے مؤقف کو سرد جنگ کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی سلامتی اور برآمدی پابندیوں کو باہم جوڑنے سے چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کیلئےمزید محتاط ہوگیا ہے۔

رواں ماہ امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مذاکرات متوقع ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات بھی متوقع ہے۔