سان فرانسسکو ( بین الاقوامی میڈیا) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نویڈیا کے شریک بانی اور سربراہ جینسن ہوانگ نے مصنوعی ذہانت کے باعث آئندہ چند برسوں میں انسانیت کے خاتمے سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2030 میں دنیا کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔
ایک انٹرویو میں جینسن ہوانگ نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں انتھروپک کے سابق محقق جیکب کوسن کے ان دعوؤں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جن میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی آئندہ ایک دہائی کے اندر انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
نویڈیا کے سربراہ نے کہا کہ 2030 دنیا کے خاتمے کا سال نہیں ہوگا اور اس سال دنیا کے ختم ہونے کا امکان صفر فیصد ہے، مصنوعی ذہانت کے حوالے سے لوگوں میں خوف پیدا کرنا غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔
جیکب کوسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی تحریر میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مختلف کمپنیاں ایسے خود کو بہتر بنانے والے انتہائی طاقتور نظام تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں اور اس عمل میں انسانی زندگیوں کے ساتھ خطرناک تجربات کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت ایسے طاقتور نظام تیار کرنے کے قابل ہوسکتی ہے جو بڑے پیمانے پر نظاموں میں نقب لگا سکیں، مختلف شعبوں کو مختصر وقت میں تبدیل کرسکیں اور اختیار و وسائل اپنے قبضے میں لے سکیں۔
جیکب کوسن کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور بعض افراد ایسے نظام تیار کرنے میں مصروف ہیں جو اسی دہائی کے اختتام تک انسانوں کی ہلاکت کا باعث بننے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ممکنہ خطرات پر امریکی قانون سازوں کی جانب سے بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈے نے بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار فوری طور پر کم کرنے کی اپیل کی تھی۔
ڈیریو اموڈے نے خبردار کیا تھا کہ اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار میں کمی نہ لائی گئی تو 6 سے 12 ماہ کے اندر ایسے باغی مصنوعی ذہانت کے نظام سامنے آسکتے ہیں جو انٹرنیٹ پر قبضہ کرکے کھربوں ڈالر کا مالی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین اور ایلون مسک بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی میں احتیاط اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر بات کرچکے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مصنوعی ذہانت کی پیشرفت سے متعلق بعض خدشات کو سازش اور افواہ قرار دے چکے ہیں۔
جینسن ہوانگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے انسانیت کے خاتمے سے متعلق پیشگوئیوں کی سائنسی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی، ممکنہ خطرات پر گفتگو اپنی جگہ، تاہم مستقبل میں انسانیت کے خاتمے سے متعلق قطعی پیشگوئیوں کو سائنسی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
نویڈیا کے سربراہ نے کمپنی کی ذمہ داری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کی کامیابی براہ راست اس کی مصنوعات اور خدمات کو محفوظ انداز میں تیار کرنے سے وابستہ ہے، اگر کمپنی محفوظ مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہی تو اس کی قدر میں کمی واقع ہوگی۔

