5 سال میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین بلائیں گے: صدر شی جن پنگ

واشنگٹن (ایسوسی ایٹڈ پریس) چینی صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی و ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے تحت چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔

شی جن پنگ نے چین اور امریکا کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر دو پانڈے بھی امریکا بھجوانے کا اعلان کیا۔ یہ پانڈے اٹلانٹا کے چڑیا گھر میں رکھے جائیں گے۔ تحفے میں پانڈا دینا ایک طویل عرصے سے چین کی سفارتی دوستی اور خیر سگالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئیے اپنے عوام کی توقعات پر پورا اتریں اور تاریخی ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔ آئیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے مسلسل کام کریں اور مل کر ایک بہتر دنیا کی تعمیر کریں۔‘‘

وائٹ ہاؤس نے اوول آفس میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی تصویر جاری کردی، دونوں رہنما اس تاریخی دفتر میں دو طرفہ ملاقات کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کے ہمراہ توسیع شدہ دو طرفہ اجلاس بھی ہوں گے۔چینی صدر شی جن پنگ وائٹ ہاؤس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر چینی صدر نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات اسٹریٹجک استحکام پر مبنی رہے ہیں۔ آج امریکا اور چین ایک تاریخی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے موضوع پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی محفوظ طریقے سے ہو۔ چین کے پاس مصنوعی ذہانت کو اچھے مقاصد کے لیے تیار کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی صلاحیت اور ذمے داری دونوں موجود ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کا باعث بنے۔