اسلام آباد (نامہ نگار) ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمران سکندر آج اپنا سامان اور فائلیں لے کر دفتر سے چلے گئے۔ روانگی سے قبل انہوں نے قریبی افسران اور اسٹاف کے ساتھ میٹنگ بھی کی۔
وزارتِ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران سکندر کو جامع تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 26 اگست کو پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد غم سے نڈھال والدین نے بچوں کی شناخت کیلئےڈی این اے ٹیسٹ کرانے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق اجلاس لاہور میں طلب کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور دیگر متعلقہ افسران اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اجلاس میں پمز سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ وزیراعظم انکوائری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں اہم ہدایات جاری کریں گے۔اس سے قبل سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جاچکی ہے، جس میں ذمہ دار افراد اور متعلقہ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرلیا ہے۔ پمز انتظامیہ، ڈاکٹروں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں پمز اسپتال میں علاج معالجے کی ناکافی سہولیات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کا اختیار وزیراعظم کو دیا گیا ہے۔

