امریکا کا کینیڈا کی بعض ڈیری اشیاء، شراب اور موٹرسائیکلوں کی درآمد پر پابندی کا اعلان

واشنگٹن، اوٹاوا (ایجنسیاں)امریکا نے کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر عائد جوابی محصولات کے ردعمل میں کینیڈا کی بعض ڈیری مصنوعات، الکوحل مشروبات اور موٹرسائیکلوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو جاری کیے گئے متعدد صدارتی احکامات میں کہا ہے کہ کینیڈا امریکی مصنوعات کے ساتھ امتیازی سلوک کررہا ہے، نئی پابندیاں 29 ستمبر سے نافذ ہوں گی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق درآمدی پابندی کی فہرست میں وہی مصنوعات شامل ہیں جن پر کینیڈا نے امریکا کے مقابلے میں دیگر ممالک کو مختلف تجارتی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ پابندی کا سامنا کرنے والی اشیاء میں بعض ڈیری مصنوعات، وہے، گنے کا شیرہ، غیر الکوحل بیئر، مالٹ سے تیار کردہ بیئر، شراب، رم اور ووڈکا کی متعدد اقسام اور موپیڈ سمیت موٹرسائیکلیں شامل ہیں۔

امریکا نے بعض دیگر کینیڈین مصنوعات پر محصولات بھی مزید بڑھا دیے ہیں، جن میں مختلف اقسام کی پنیر، کچی کھالیں، کاغذ، بعض فرنیچر اور گدے، ایلومینیم اور لوہے سمیت کچھ دھاتیں، موٹر بوٹس، گالف کارٹس، فشنگ راڈ کے پرزے اور سوئچ بورڈز شامل ہیں۔

کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک نے امریکی اقدامات کو ’’بلا جواز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کینیڈین کارکنوں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی توجہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے، بیرون ملک تجارتی شراکت داری کو متنوع بنانے اور ملک کو مضبوط بنانے پر ہے۔

ڈومینک لی بلانک کے مطابق انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب سے رابطہ کیا ہے اور تجارتی کشیدگی ختم کرنے کے لیے ’’نیک نیتی‘‘ سے کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

دوسری جانب کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکا کو کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رکھنے کے بجائے دیگر ممالک کی جانب رخ کرنے کی پالیسی کی ایک قیمت ہوگی، تاہم ان کے بقول عملی اقدامات نہ کرنے کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی ماہ سے جاری تجارتی جنگ کے دوران گزشتہ ماہ امریکا نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے تھے، جن سے کینیڈا کی فرنیچر، شراب اور بعض کھیلوں اور ماہی گیری کے سامان کی صنعتیں متاثر ہوئیں۔

کینیڈا نے امریکی اسٹیل، کپڑوں، فرنیچر اور دیگر مصنوعات پر ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کے اصول کے تحت جوابی محصولات عائد کیے، جن کا اطلاق منگل سے ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور کینیڈا کی معیشتیں گہری طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے تجارتی جنگ کے اثرات دونوں ممالک کے صارفین اور کاروباری اداروں کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں کینیڈا نے امریکا کو تقریباً 68 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کی الکوحل اسپرٹس، 26 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ڈیری مصنوعات اور 9 کروڑ ڈالر کی موٹرسائیکلیں برآمد کی تھیں۔