اگر میں نہ ہوتا تو اسرائیل کا صفایا ہو چکا ہوتا:ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن( رائٹرز، اے ایف پی، سوئس وزارت خارجہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو اسرائیل کا صفایا ہو چکا ہوتا، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہیں، تاہم انہیں بعض اوقات قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔

ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملوں سے روک سکتے ہیں کیونکہ اسرائیل وہی کرتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی مجبوری میں معاہدہ نہیں کیا بلکہ ایران نے مایوسی کے عالم میں اس کی راہ اختیار کی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے نتیجے میں شدید کمزور ہو چکا ہے، اس کے پاس نہ مؤثر فضائیہ رہی ہے، نہ بحریہ، نہ طیارہ شکن نظام، نہ ریڈار اور نہ ہی وہ دفاعی صلاحیت جو پہلے موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بعض حلقے ایران کو پہلے سے بہتر حالت میں قرار دے رہے ہیں، جو حقائق کے برعکس ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ساٹھ روزہ مدت پوری کرے گا اور ایران کو کسی قسم کی مالی معاونت یا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔

ادھر امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں۔ سوئس وزارت خارجہ کے مطابق برگن اسٹاک میں طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہوں گے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزرلینڈ روانگی مؤخر ہونے کے بعد اس فیصلے کی تصدیق کی گئی۔

سوئس وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ آئندہ بھی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے تیار ہے اور متعلقہ انتظامات برقرار رکھے گئے ہیں، تاہم مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو داخلی سطح پر مختلف دباؤ کا سامنا ہے، جہاں سخت گیر حلقے حزب اللّٰہ کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور ایران کے ساتھ سفارتی عمل جاری رکھنے کی خواہاں ہے۔

بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل اپنے فوجیوں یا سرزمین پر حملے برداشت نہیں کرے گا اور حزب اللّٰہ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، تاہم ان کے حالیہ مؤقف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت فی الحال تنازع کو مزید وسعت دینے سے گریز کرنا چاہتی ہے۔