جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے، 18 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

بیروت( لبنانی سرکاری خبر ایجنسی، رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ)اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملوں اور گولہ باری کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق جبکہ 33 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان کے 11 سے زائد قصبوں اور شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں نبطیہ اور صور کا ضلع بھی شامل ہیں۔

لبنانی ذرائع کے مطابق شدید بمباری سے رہائشی علاقوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں اور شہریوں کے انخلا میں بھی شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تازہ حملوں کے بعد جنوبی لبنان سے بڑی تعداد میں شہری محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں، خصوصاً صور اور بنت جبیل کے اضلاع سے لوگوں کی شمالی لبنان کی طرف ہجرت جاری ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے تقریباً 80 اہداف کو نشانہ بنایا اور مختلف مقامات پر جھڑپوں کے دوران کارروائیاں کیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان جھڑپوں میں چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے علی الطاہر پہاڑی کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی، جس پر حزب اللہ کے جنگجوؤں نے راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے شدید مزاحمت کی۔ جھڑپوں کے دوران زخمی اسرائیلی فوجیوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں بھی کرنا پڑیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے، تاہم اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے تقاضوں کے تحت جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا اور کارروائیاں جاری رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں اور سرحدی جھڑپوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ جنگ بندی کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔