بھارت: نازیبا ویڈیو وائرل ہونے پر باپ اور بھائی کے ہاتھوں 22 سالہ لڑکی قتل

احمد آباد (بھارتی میڈیا) بھارتی شہر احمد آباد میں 22 سالہ لڑکی کو اس کے والد اور بھائی نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرکے واقعے کو سڑک حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقتولہ ایک اسپتال میں استقبالیہ ڈیسک پر کام کرتی تھی اور تقریباً 3 ماہ قبل ایک شخص کے ساتھ اس کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد والد اور 38 سالہ بھائی نے مبینہ طور پر خاندانی بدنامی کے خوف سے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

پولیس کے مطابق 12 اگست کی رات دونوں ملزمان مقتولہ کو موٹر سائیکل پر سیر کے بہانے گھر سے باہر لے گئے۔ والد نے موٹر سائیکل ایک سنسان کچے راستے پر موڑی، جہاں لڑکی کے سر پر لوہے کے ہتھوڑے سے 3 وار کیے گئے، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق قتل کے بعد والد اور بھائی نے لاش سڑک پر منتقل کی اور موٹر سائیکل کو بھی نقصان پہنچایا تاکہ واقعے کو تیز رفتار گاڑی کی ٹکر کا نتیجہ ظاہر کیا جاسکے۔

بعد ازاں بھائی نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے ان کی موٹر سائیکل کو پیچھے سے ٹکر مار دی ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ حادثے میں اس کی بہن کے سر پر شدید چوٹیں آئیں جبکہ اسے معمولی زخم آئے ہیں۔پولیس کے پہنچنے پر لڑکی کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اگلے روز دم توڑ گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کی جانب سے والد اور بھائی سے تحقیقات کے دوران واقعے کی حقیقت سامنے آگئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ بھائی نے قتل کے روز گھر سے نکلنے سے قبل لوہے کا ہتھوڑا اپنی پتلون میں چھپایا تھا۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔