اسلام آباد (ایجنسیاں)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں گوجرانوالہ کے صفائی ورکر ذیشان کی خودکشی کے معاملے پر پنجاب حکومت کی جانب سے بریفنگ کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان اور سینیٹر عابد شیر علی کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، جس سے اجلاس میں کچھ دیر کیلئے ہنگامہ آرائی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
اجلاس میں گوجرانوالہ کے صفائی ورکر ذیشان کی ہلاکت کے معاملے کا جائزہ لیا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر دباؤ اور خراب معاشی حالات کے باعث اس نے خودکشی کی۔
سینیٹرز نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے وضاحت طلب کی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے واقعے اور اس حوالے سے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ کے دوران سینیٹر عابد شیر علی نے گوجرانوالہ میں سُتھرا پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے آپریشنز کا دفاع کیا، جس کے بعد ان کی اور سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا۔
ایمل ولی خان نے عابد شیر علی سے کہا کہ ’’یہ کوئی تھانہ نہیں اور نہ ہی یہاں کوئی تفتیش ہورہی ہے، آپ کمیٹی میں مجھ سے اس طرح بات کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ آپ کون ہیں؟‘‘
ایمل ولی خان کے مزید استفسار پر عابد شیر علی نے بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کون ہیں؟‘‘ ایمل ولی خان نے کہا کہ ’’میں کچھ نہیں ہوں۔‘‘ عابد شیر علی نے جواب دیا کہ ’’نہیں، آپ کیا ہیں؟ اگر میں کچھ نہیں ہوں تو آپ کیا ہیں؟‘‘
تلخ کلامی کے دوران کمیٹی کے دیگر ارکان نے مداخلت کرکے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔

