سیاست میں بعض اوقات انسان کو اسی ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے تشکیل دینے میں کبھی خود اس کا بھی حصہ رہا ہو۔ مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے استعمال ہونے والی سخت زبان، تضحیک اور کردار کشی ہمیشہ جماعت سے باہر تک محدود نہیں رہتی؛ ایک دن اس کا رخ اندر کی طرف بھی مڑ سکتا ہے۔ شوکت یوسفزئی کا حالیہ واقعہ اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔
تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو خط لکھ کر سکیورٹی کی صورتِ حال کے پیشِ نظر لانگ مارچ مؤخر کرنے کی تجویز دی۔ ان کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی اور دیگر خطرات کے ماحول میں احتجاجی تصادم کے بجائے مذاکرات اور سیاسی حکمتِ عملی کو ترجیح دینی چاہیے۔ کسی سیاسی جماعت میں ایسی تجویز غیر معمولی نہیں ہونی چاہیے۔ فیصلہ ہونے سے پہلے مختلف آرا سامنے آتی ہیں، ان پر بحث ہوتی ہے اور بالآخر مجاز فورم فیصلہ کرتا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ایک سیاسی تجویز کو پالیسی بحث کے بجائے وفاداری کے امتحان میں بدل دیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر یہ خط ان کے پاس آیا تو وہ اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے۔ سوشل میڈیا پر شوکت یوسفزئی کیخلاف سخت ردِعمل سامنے آیا اور بالآخر وہ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں آبدیدہ ہوگئے۔
ان کا دکھ شاید خط مسترد کیے جانے سے زیادہ اس بات پر تھا کہ برسوں جماعت کے ساتھ کھڑے رہنے کے باوجود ایک مختلف رائے پیش کرنے پر انہیں اپنی وابستگی کی وضاحت دینا پڑ رہی تھی۔ اگر ایک صوبائی سیکرٹری اطلاعات بھی اپنی رائے کے بعد دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے تو عام کارکن کس قدر آزادی سے بات کرسکتا ہے؟
تحریک انصاف نے پاکستان میں سوشل میڈیا کو ایک غیر معمولی سیاسی قوت میں تبدیل کیا۔ اس پلیٹ فارم نے جماعت کو اپنا بیانیہ تشکیل دینے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور براہِ راست عوام تک پہنچنے میں مدد دی۔ لیکن یہی قوت اس وقت نقصان دہ بن جاتی ہے جب اسے سیاسی تربیت، برداشت اور اخلاقی حدود کے بغیر استعمال کیا جائے۔
گزشتہ برسوں میں مخالف سیاست دانوں، صحافیوں اور ناقدین کے خلاف نام بگاڑنے، ذاتی حملوں اور سخت زبان کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ دوسری جماعتیں بھی اس رویے سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں، تاہم تحریک انصاف کا وسیع اور منظم آن لائن نیٹ ورک اس بحث کو خاص اہمیت دیتا ہے۔
قیادت کی زبان اور رویہ اس ماحول کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ عمران خان نہ صرف خود جلسوں میں سیاسی مخالفین کے لیے سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے رہے بلکہ ایسے ساتھیوں کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیے جو مخالفین پر تند و تیز حملے کرتے تھے۔
پنجاب کے ایک سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات کو اپوزیشن رہنماؤں پر سخت تنقید کے بعد عمران خان کی جانب سے ’’میرا چیتا آگیا‘‘ جیسے الفاظ سے سراہا جاتا تھا۔ بعض دوسرے وزرا اور مشیروں کی شناخت بھی غیر شائستہ طرزِ گفتگو سے وابستہ ہوگئی۔ جب جارحانہ زبان کو سیاسی کارکردگی کی علامت سمجھا جائے تو یہ محض فرد کی خامی نہیں رہتی بلکہ جماعتی رویے میں ڈھل جاتی ہے۔ آج وہی سابق وزیر تحریک انصاف چھوڑ کر میڈیا پر عمران خان کے خلاف ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو کبھی ان کے بدترین مخالفین بھی استعمال نہیں کرتے تھے۔ یہ صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی وابستگی اگر اصول کے بجائے شخصیات اور جذبات پر قائم ہو تو رویے تیزی سے ایک انتہا سے دوسری انتہا تک پہنچ سکتے ہیں۔
مخالفین کو چور، ڈاکو، غدار، دشمن یا سازشی قرار دینے کا مسلسل رجحان کارکنوں کو دلیل کے بجائے حملے کا عادی بناتا ہے۔ پھر یہی انداز صحافیوں اور ناقدین سے آگے بڑھ کر اپنی جماعت میں مختلف سوچ رکھنے والوں کے خلاف بھی استعمال ہونے لگتا ہے۔
اس عمل میں بیرونِ ملک بیٹھے بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کارکنوں کا کردار بھی قابلِ غور ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف سے متعلق مواد ان کے چینلز کے ناظرین اور آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ چنانچہ جب مذاکرات، مفاہمت یا حکمتِ عملی میں تبدیلی کی تجویز سامنے آتی ہے تو بعض حلقوں کا ردِعمل اتنا شدید ہوتا ہے کہ متعلقہ رہنما اصل تجویز کے فوائد اور نقصانات پر گفتگو کرنے کے بجائے خود کو الزامات سے بچانے میں مصروف ہوجاتا ہے۔
ایسے ماحول کا نقصان بالآخر قیادت کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ سنجیدہ مشورہ دینے والے خاموش ہوجاتے ہیں، مذاکرات یا کوئی مثبت اور سنجیدہ تجویز پیش کرنے والے بدنامی کے خوف سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور قیادت کے گرد صرف وہ آوازیں باقی رہ جاتی ہیں جو ہر فیصلے کی تائید کرتی ہیں۔ نتیجتاً جماعت میں مشاورت کمزور اور فیصلہ سازی یک طرفہ ہوجاتی ہے۔
شوکت یوسفزئی کے معاملے میں بھی بحث ان کی تجویز کے فائدے اور نقصان کے بجائے ان کی وابستگی پر مرکوز ہوگئی۔ انہیں وضاحت کرنا پڑی کہ وہ جماعت اور عمران خان کے ساتھ ہیں اور پارٹی کے فیصلے کی پابندی کریں گے۔ یہی صورتِ حال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا جماعت کے اندر قائد سے اختلاف کی حقیقی گنجائش موجود ہے، یا ہر مختلف رائے کو بے وفائی، غداری یا ’’بک جانے‘‘ کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے؟
شخصیت پرستانہ سیاست میں قائد کی غیر مشروط حمایت بنیادی معیار بن جاتی ہے، جبکہ جمہوری جماعت میں کارکن دلیل، مشاورت اور اجتماعی فیصلے کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ جمہوری جماعت وہ نہیں جس کے لاکھوں سوشل میڈیا فالوورز ہوں؛ وہ ہے جہاں رہنما اور کارکن اپنے قائد سے اختلاف کرسکیں اور اس کے بعد انہیں اپنی وابستگی کا سرٹیفکیٹ پیش نہ کرنا پڑے۔
شوکت یوسفزئی کے آنسو کسی ایک فرد کی دل آزاری سے بڑھ کر ایک سیاسی کلچر پر سوال اٹھاتے ہیں۔ جس طرزِ سیاست میں ٹرولنگ، کردار کشی اور جارحانہ زبان کو مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لانے کا مؤثر ہتھیار سمجھا گیا، آج اسی کا رخ جماعت کے اندر موجود مختلف آوازوں کی طرف بھی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی اندرونی ٹرولنگ اور کردار کشی کا سامنا کرتے ہوئے جماعت کے کئی اہم مرد و خواتین رہنما آبدیدہ ہوچکے ہیں، جبکہ بعض دل برداشتہ ہوکر پارٹی کو خیرباد تک کہہ چکے ہیں۔
ناقدین اسی صورتِ حال کو ’’مکافاتِ عمل‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسروں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ہتھیار بالآخر اپنے بنانے والوں کی طرف بھی پلٹ سکتے ہیں۔
جمہوریت میں اختلاف بغاوت نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتیں جب یہ اصول فراموش کردیں تو مسئلہ کسی ایک رہنما کے آنسوؤں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوال خود جماعت کے جمہوری کردار پر اٹھنے لگتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ تحریک انصاف شخصیت پرستی اور اندھی تقلید سے نکل کر ایک مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر خود کو منظم کرے، کارکنوں کی سیاسی تربیت کرے، مشاورت کو فیصلہ سازی کا حصہ بنائے اور ایسے یوٹیوبرز و سوشل میڈیا کارکنوں سے واضح فاصلہ اختیار کرے جن کے طرزِ عمل کو جماعت کے بعض سنجیدہ رہنما بھی نقصان دہ قرار دیتے رہے ہیں۔
سیاسی جماعتیں صرف نعروں، جلسوں یا سوشل میڈیا کی طاقت سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ ان کی اصل قوت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ایک کارکن اپنے قائد سے اختلاف کرے اور اس کے باوجود اسے اپنا ہی کارکن سمجھا جائے۔

