نئی دہلی (بھارتی میڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے سابق بھارتی کرکٹ کپتان سارو گنگولی کی شخصیت اور تشہیری حقوق کی بظاہر خلاف ورزی پر فلم ’’دوسرا‘‘ کے فلم سازوں کو 2 کروڑ روپے کی غیر مشروط بینک گارنٹی جمع کرانے اور فلم کے آغاز و اختتام پر وضاحتی نوٹس شامل کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس تیجس کاریا نے جمعہ 6 نومبر کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں سارو گنگولی کی شناخت اور شخصیت کو بظاہر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ عدالت نے فلم کی نمائش روکنے سے انکار کردیا، تاہم ہدایت کی کہ فلم کے آغاز اور اختتام پر ہندی اور انگریزی زبانوں میں نمایاں وضاحت درج کی جائے کہ سارو گنگولی نے فلم میں اپنی شخصیت کے استعمال کی اجازت نہیں دی اور اس سے ان کی شخصیت یا تشہیری حقوق کی خلاف ورزی مقصود نہیں۔
عدالت نے فلم سازوں کو یہ وضاحت 2 روز کے اندر شامل کرنے اور 2 کروڑ روپے کی غیر مشروط بینک گارنٹی 2 ہفتوں میں ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں فلم سازوں کو فلم یا اس کے کسی بھی حصے سے تجارتی فائدہ اٹھانے سے روکا جا سکتا ہے۔
یہ مقدمہ سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی اور فلم ساز ادارے لوو فلمز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ فلم ’’دوسرا: انڈیااز ادر فریڈم اسٹرگل‘‘ میں گنگولی کی شناخت، کرکٹ کیریئر اور ان سے وابستہ مشہور واقعات کو اجازت کے بغیر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
درخواست میں بالخصوص 2002ء کی نیٹ ویسٹ سیریز کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف بھارت کی تاریخی فتح اور لارڈز کے میدان کی بالکونی میں گنگولی کے شرٹ اتار کر لہرانے کے مشہور واقعے کو فلم اور اس کی تشہیر میں استعمال کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔
سارو گنگولی اور لوو فلمز کا کہنا تھا کہ ادارے نے 5 اگست 2021ء کو سابق کرکٹر کی زندگی اور پیشہ ورانہ سفر پر مجاز سوانحی فلم بنانے کے حقوق حاصل کیے تھے۔ اس فلم کا نام ’’دادا: دی سارو گنگولی اسٹوری‘‘ رکھا گیا ہے، جس میں اداکار راج کمار راؤ مرکزی کردار ادا کریں گے اور اس کی نمائش 14 مئی 2027ء کو متوقع ہے۔
دوسری جانب ’’دوسرا‘‘ کے فلم سازوں کا مؤقف ہے کہ یہ سارو گنگولی کی سوانح عمری نہیں بلکہ راجستھان سے تعلق رکھنے والی ایک متوسط طبقے کی لڑکی کی فرضی کہانی ہے، جو گنگولی کی کرکٹ میں کامیابیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ فلم سازوں کے وکلا نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ 2002ء کی نیٹ ویسٹ سیریز کے مناظر استعمال کرنے کے لیے بھارتی اور انگلش کرکٹ بورڈز سے اجازت حاصل کی گئی تھی۔
فلم کی ہدایت کاری ابھینے دیو نے کی ہے اور یہ 23 اکتوبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی تھی۔ عدالت نے اپنے عبوری حکم میں فلم کی نمائش جاری رکھنے کی اجازت دی، تاہم مقدمے کے حتمی فیصلے تک گنگولی کے حقوق کے تحفظ کے لیے مذکورہ شرائط عائد کردیں۔

