نیتن یاہو حکومت گرانے کیلئے عرب جوائنٹ لسٹ کی آئزنکوٹ کو مشروط حمایت

تل ابیب (اے پی، انادولو) اسرائیل کی عرب جماعتوں کے اتحاد ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کے لیے حزبِ اختلاف کے رہنما گادی آئزنکوٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ان کی ممکنہ حکومت میں شامل ہونے کے بجائے باہر سے حمایت کرے گا۔

جوائنٹ لسٹ نے 5 نومبر کو صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران گادی آئزنکوٹ کو نئی حکومت بنانے کا اختیار دینے کی سفارش کی۔ اتحاد کے رہنما احمد طیبی نے کہا کہ ان کی جماعت نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ماضی کی روایات سے ہٹ کر اقدامات کرنے پر تیار ہے۔

احمد طیبی کے مطابق جوائنٹ لسٹ حزبِ اختلاف کی حکومت کو پارلیمان میں ووٹ دے کر یا ووٹنگ سے غیر حاضر رہ کر حمایت فراہم کر سکتی ہے، تاہم وہ حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حمایت کا مقصد عرب شہریوں کو درپیش مسائل، جرائم اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے سیاسی تبدیلی کا راستہ کھولنا ہے۔

اسرائیلی انتخابات کے نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحادیوں نے 120 رکنی پارلیمان میں 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ آئزنکوٹ کے ساتھ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو 48 نشستیں ملیں۔ عرب جماعتوں کے دو اتحادوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کی 11 اور متحدہ عرب لسٹ کی 8 نشستیں شامل ہیں۔

ان جماعتوں کی حمایت کے بعد آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کی سفارش کرنے والے ارکان کی تعداد 67 ہوگئی، جبکہ نیتن یاہو کے حق میں 46 ارکان نے سفارش کی۔ تاہم پارلیمان میں اکثریتی حمایت کی سفارش ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ آئزنکوٹ کے لیے حکومت بنانا یقینی ہوگیا ہے۔

آئزنکوٹ نے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے لیے بعض شرائط بھی رکھی ہیں، جن میں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اور اسے ختم کرنے کی حمایت شامل ہے۔ احمد طیبی کا کہنا ہے کہ یہ شرائط ان جماعتوں پر لاگو نہیں ہوتیں جو حکومت میں شامل ہونے کے بجائے باہر سے حمایت فراہم کریں گی۔

دوسری جانب اسرائیل کی بعض حزبِ اختلاف جماعتوں نے عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث حکومت سازی کے مذاکرات میں مزید مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے۔