ہیوسٹن (اے پی، رائٹرز) امریکی ریاست ٹیکساس کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ہیوسٹن کے میئر جان وٹمائر نے انتظامی حکم جاری کرتے ہوئے شہر کی پولیس کو وفاقی محکمہ امیگریشن و کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) سے رابطہ محدود کرنے کی ہدایت کردی۔
6 نومبر کو جاری کیے گئے حکم کے تحت ہیوسٹن پولیس اب کسی شخص کے خلاف صرف انتظامی نوعیت کا امیگریشن وارنٹ سامنے آنے یا معمولی ٹریفک خلاف ورزی پر آئی سی ای کو اطلاع نہیں دے گی۔ پولیس حکام کے مطابق وفاقی ادارے سے رابطہ اس وقت کیا جائے گا جب کسی شخص کو ایسے جرم میں گرفتار کیا جائے جس کی سزا قید ہو سکتی ہو اور اس کے خلاف آئی سی ای کا انتظامی وارنٹ بھی موجود ہو۔
میئر جان وٹمائر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شہر ایسے تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کرے گا جو خطرہ بن رہے ہیں، نہ کہ ان لوگوں کے خلاف جو اپنے خاندان، روزگار اور تعلیم کے معاملات میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے تارکینِ وطن میں پائے جانے والے خوف اور بے چینی میں کمی آئے گی۔
انہوں نے انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات اہمیت رکھتے ہیں اور حالیہ سیاسی تبدیلی نے ہیوسٹن کو اپنی پالیسی میں ردوبدل کی گنجائش فراہم کی ہے۔ پولیس چیف جے نوئے ڈیاز نے بتایا کہ اہلکاروں کو نئی ہدایات پر عمل درآمد شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ہیوسٹن کی سابقہ پالیسی سے واضح تبدیلی ہے، جس کے تحت پولیس اہلکاروں کو کسی شخص کے ریکارڈ میں آئی سی ای کا انتظامی وارنٹ سامنے آنے پر وفاقی حکام سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔
آئی سی ای نے میئر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ایسے جرائم بھی ہیں جنہیں غیر پُرتشدد قرار دیا جاتا ہے، لیکن وہ سنگین نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹیکساس میں مقامی حکومتوں کے لیے امیگریشن قوانین کے نفاذ میں تعاون سے متعلق ریاستی قانون اب بھی نافذ ہے۔ اس لیے ہیوسٹن کے نئے حکم اور ریاستی قانون کے درمیان ممکنہ قانونی اختلافات پر بھی بحث متوقع ہے۔

