ڈبلن (خبر ایجنسیاں) آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں بم نصب ہونے کی دھمکی کے بعد سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے دفاتر سمیت متعدد ذرائع ابلاغ کے اداروں کو خالی کرالیا گیا، پولیس نے عمارتوں کی تلاشی کے بعد آر ٹی ای کے مرکزی دفتر کو محفوظ قرار دے دیا۔
آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق جمعہ 6 نومبر کی صبح تقریباً 8 بج کر 33 منٹ پر ادارے اور دیگر ذرائع ابلاغ کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی، جس میں عمارتوں میں دھماکا خیز مواد نصب ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ دھمکی کے بعد ڈبلن کے علاقے ڈون بروک میں واقع آر ٹی ای کے مرکزی کیمپس سے عملے، ٹی وی اور ریڈیو کے میزبانوں سمیت دیگر ملازمین کو باہر نکال لیا گیا۔
پولیس اہلکاروں کے ساتھ مسلح دستے اور کھوجی کتوں نے عمارتوں کی تلاشی لی۔ حفاظتی اقدامات کے باعث آر ٹی ای ریڈیو ون کی براہِ راست نشریات بھی متاثر ہوئیں اور پروگراموں کی جگہ پہلے سے ریکارڈ شدہ مواد نشر کیا گیا۔ بعد ازاں نشریات ایک عارضی بیرونی نشریاتی گاڑی سے بحال کردی گئیں۔
ڈبلن میں میڈیا ہاؤس اور آئرش انڈیپنڈنٹ کے دفاتر بھی احتیاطی تدابیر کے تحت خالی کرائے گئے، جبکہ نیو ٹاک کے دفتر سے بھی عملے کو باہر نکالا گیا۔ ورجن میڈیا کو بھی دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی، تاہم اس کے دفاتر خالی نہیں کرائے گئے اور نشریات جاری رہیں۔
آر ٹی ای کے ڈائریکٹر جنرل کیون بیک ہرسٹ نے بتایا کہ دھمکی موصول ہونے کے بعد عملے کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے عمارتیں خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیس کی تلاشی کے بعد آر ٹی ای کے کیمپس کو محفوظ قرار دے دیا گیا اور عملے کو واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔
آئرش حکومت نے میڈیا اداروں کو موصول ہونے والی دھمکیوں کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام ذمہ داروں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم مائیکل مارٹن نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس، دفاعی ادارے اور سائبر سکیورٹی ماہرین تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ دھمکیاں یورپ میں فضائی کمپنیوں کو موصول ہونے والی بم کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہیں، جن کے باعث گزشتہ روز متعدد پروازیں بھی متاثر ہوئی تھیں۔ حکام نے تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ تمام واقعات کے پیچھے ایک ہی گروہ یا منظم نیٹ ورک ملوث ہے۔

