ذوالفقار احمد چیمہ، نیک نام اور ایماندار ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں، وہ جہاں جہاں تعینات رہتے وہاں وہاں سے جرم اور جرائم پیشہ دور بھاگ جاتے ورنہ ان کا منہ کالا ہوتا ، چیمہ صاحب کڑوے ہونے کی حد تک سخت گیر افسر تھے ،ان کی تعیناتی کے علاقہ میں میرٹ ڈیرے ڈالے رکھتا ،امن پسند شہریوں اور شریفوں کا راج ہوتا،چیف سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری رہنے والے ایک ریٹائرڈ پی اے ایس افسر بتاتے ہیں کہ گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ان کے بھائی حکومتی اور مسلم لیگ(ن) کے دباو کے باوجود اس لئے جیت گئے کہ وہاں ذوالفقار چیمہ تعینات تھے ، حالانکہ اسی ضلع کے ایک دوسرے حلقے سے چیمہ صاحب کے بھائی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہوتے ، حکومتی اور سیاسی دباو کی پرواہ کئے بغیر قانون نافذ کرنے والا یہ افسر اکثر اوقات قانون بھی ہاتھ میں لے لیتا تاکہ ملزم عبرت کا نشانہ بن سکے ، اب وہ افسر کی بجائے دانشور اور کالم نگار ہے مگر انکی تحریروں میں بے باکی اور سخت گوئی اب بھی صاف دکھائی دیتی ہے،میں طویل عرصہ تک ایک صحافی کے طور بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی رپورٹنگ کرتا رہا اب انہی موضوعات پہ لکھتا ہوں ،پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی ہدائیت پر کرپشن کیخلاف انٹی کرپشن نے جو مہم شروع کر رکھی ہے اس پر بھی میری نظر ہے اور سب سے پہلے اس پر میرا ہی کالم شائع ہوا تھا ،آج اچانک فیس بک پر ذوالفقار چیمہ صاحب کی وال پر نظر پڑی تو کرپشن کے حوالے سے انکی تحریر کو پڑھا بلکہ بار بار پڑھا اور انکی بے باکی کا مزید قائل ہو گیا ،چیمہ صاحب کے قاری اور فالوارز کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر میرا دل چاہا کہ میں بھی آج انکی اس تحریر کو اپنے کالم کا حصہ بناوں،آپ اسے پڑہیں اور پنجاب میں کرپشن بارے آگاہی حاصل کریں ، وہ لکھتے ہیں کہ ،، چیف منسٹر پنجاب نے کہا ہے کہ کرپشن کیخلاف مہم میں سینکڑوں گرفتاریاں ہوئی ہیں۔۔محترمہ۔اگر آپ کرپشن ختم کرنا چاہتیں تو اسکا آغاز اپنی کابینہ سے کرتیں۔اور مال بنانے والے وزیروں کو ہتھکڑیاں لگواتیں۔۔ مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔
اگر آپ جاننا چاہیں تو ایجنسیوں کے نمائندوں یا باخبر صحافیوں کو بلا کر پوچھ لیں۔کہ کس کی کیا شہرت ہے۔اسکے بعد ترقیاتی فنڈز میں سے کمیشن کھانے والے ایم پی ایز کو تھانوں میں بند کراتیں۔۔مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،اسکے بعد جو جو سیکرٹری۔کمشنر ، ڈی آئی جی ،ڈی پی او اور ڈی سی حرام کے پیسے اکٹھے کر رہے ہیں انہیں نشان عبرت بنایا جاتا۔۔ مگر کسی کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔آپکے شہر لاہور میں بہت سی لیڈی ایس پیز بھی پیسے لیتی ہیں مگر کیا آپ نے کرپشن میں ملوث ہونے پر کسی ڈی پی او یا آر پی او یا کسی کمشنر اور ڈی سی کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا ہے؟اگر آپ کرپشن کے خاتمے کیلئے مخلص ہوتیں تو پرتگال اور کینیڈا میں جائدادیں بنانے والے افسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرتیں۔انکی انکوائری انتہائی دیانتدار اور جرات مند افسروں سے کراتیں اور اور انہیں کرپشن کرنے پر جیل میں بند کرتیں مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔دکھاوے کیلئے چھوٹے اہلکاروں کیخلاف کاروائی کوئی معنی نہیں رکھتی۔اگر بڑے ڈاکوؤں کو کھلی چھٹی ہے تو پھر سب کہانیاں ہیں جس طرح عمران خان نے کرپشن کے خلاف نعرے لگا لگا کر لوگوں کی توقعات بہت بڑھا دی تھیں۔اور ہمارا خیال تھا کہ وہ واقعی کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔۔۔مگر جب وقت آیا اور وہ وزیراعظم بن گئے تو انہوں نے بزدار، گوگی اور پرویز الٰہی وغیرہ کی کرپشن کے خلاف نہ صرف کوئی کاروائی نہ کی بلکہ انہیں مکمّل تحفظ دیا۔
اب تو اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ نون لیگ ہو یا تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی ۔۔۔انہیں کرپشن سے کوئی نفرت نہیں،کرپشن اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔۔ اسکا خاتمہ صرف وہ ٹیم ہی کر سکتی ہے جو خود کلین ہو، اور سادہ زندگی بسر کرنے اور سادہ لباس پہننے والے قابل اور جرات مند افراد پر مشتمل ہو،میں تو کسی عہدے کا خواہشمند نہیں۔۔۔کئی بار آفرز بھی ہوئیں مگر قبول کرنے سے معذرت کی۔۔۔مگر میرے پاس اختیار ہوتا تو پورے صوبے کو ایک مہینے میں کرپشن سے بالکل پاک کر دیتا۔،،چیمہ صاحب کے خیالات آپ نے پڑھے اب کچھ میری گزارشات پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن میں آخرکار وہی ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی، ڈی جی اینٹی کرپشن نے اپنے ہی محکمے میں تعینات اکیس افسروں اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے معطلی، متعلقہ محکموں میں واپسی اور بلیک لسٹ کرنے جیسے اقدامات کے احکامات جاری کر دیے،اچھی بات ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ اینٹی کرپشن کے اندر کرپشن کیسے ہو رہی تھی ؟ میں نے سب سے پہلے لکھا تھا کہ یہ محکمہ ’’اینٹی کرپشن‘‘ کم اور ’’آنٹی کرپشن‘‘ زیادہ بنتا ہے، شاید یہ جملہ طنزیہ تھا، مگر اس کے پیچھے عوام کے ایک انتہائی سنجیدہ احساس کی ترجمانی تھی، جب کرپشن کیخلاف بنائے گئے ادارے کے اپنے اہلکار ہی شکایات کی زد میں آنے لگیں تو پھر عام آدمی کس دروازے پر دستک دے؟ ڈی جی اینٹی کرپشن نے کارروائی کی ہے تو اسے محض ایک محکمانہ ایکشن سمجھنے کے بجائے ایک بڑے آپریشن کا آغاز سمجھنا چاہیے، کیونکہ مسئلہ صرف اکیس افراد کا نہیں اس پورے نظام کا ہے جس میں ایک سرکاری اہلکار کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ اختیار بھی استعمال کرے گا، شہری کو دفتر کے چکر بھی لگوائے گا اور اگر معاملہ پکڑا بھی گیا تو شاید کسی سفارش یا تبادلے کے ذریعے بچ نکلے گا،یہی وہ سوچ ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔پنجاب میں کرپشن کسی ایک محکمے کی بیماری نہیں، پولیس، ریونیو، ترقیاتی ادارے اور تعمیراتی محکمے عوام کے ساتھ ریاست کے براہ راست رابطے کے مراکز ہیں، عام آدمی کا واسطہ حکومت سے کسی بڑے سیکرٹریٹ میں نہیں بلکہ تھانے، پٹوار خانے، تحصیل دفتر، ترقیاتی منصوبے اور تعمیراتی ادارے میں پڑتا ہے، یہی وہ جگہیں ہیں جہاں اسے ریاست کا اصل چہرہ نظر آتا ہے اور بدقسمتی سے اکثر یہ چہرہ خوشگوار نہیں ہوتا۔
عوام پوچھتے ہیں پولیس کا قانون سب کیلئے ہے یا صرف کمزور کے لیے؟پنجاب پولیس کا بنیادی فرض شہری کی حفاظت اور قانون کی عمل داری ہے، مگر عام آدمی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا قانون واقعی سب کیلئےبرابر ہے؟تھانے میں ایک عام شہری ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر تفتیش تک اگر سفارش ڈھونڈنے لگے تو پھر قانون کی بالادستی کہاں رہ جاتی ہے؟ اگر بااثر شخص کیلئے پولیس کا رویہ الگ اور غریب کیلئے الگ ہو تو وردی کی عزت بھی متاثر ہوتی ہے اور ریاست کا اعتماد بھی،پولیس میں ہزاروں اچھے، ایماندار اور فرض شناس اہلکار بھی موجود ہیں، مسئلہ ان اہلکاروں کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو چند بدعنوان عناصر کو پورے محکمے کی ساکھ خراب کرنے کا موقع دیتا ہے،پولیس میں احتساب ایسا ہونا چاہیے کہ اہلکار کو یہ معلوم ہو کہ اختیار ملنے کے ساتھ جواب دہی بھی آئے گی،ڈی جی انٹی کرپشن کا اصلی محکمہ پولیس ہے ،ہم انہیں کیا سمجھائیں ، وہ پولیس کو کسی اور سے زیادہ جانتے اور سمجھتے ہیں۔

