مسی ساگا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا میں 9 اسلامی اسکولوں کو دھمکیاں ملنے پر مسی ساگا ایرن ملز سےرکن پارلیمنٹ اقرا خالد نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی دو بھتیجیاں بھی ان اسکولوں میں سے ایک میں زیر تعلیم ہیں جہاں دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
اقرا خالد نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان خاندانوں کے خوف کو سمجھ سکتی ہیں جو اس وقت پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ وہ خود بھی اسی خوف کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر طالب علم، والدین، استاد اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ان کی مکمل ہمدردی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اسکول جاتے ہوئے یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ وہ محفوظ رہیں گے، نہ کہ یہ خوف ہو کہ کسی کی نفرت اسکول کے اندر بھی ان تک پہنچ سکتی ہے۔
اقرا خالد نے کہا کہ ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور اس کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلم برادری اور اسلاموفوبیا پر مبنی ان کارروائیوں سے متاثر ہونے والے ہر خاندان کے ساتھ کھڑی ہیں۔اقرا نے کہا کہ وہ آج رات اپنی بھتیجیوں کو پہلے سے کچھ زیادہ قریب رکھیں گی۔

