ایمسٹرڈیم (الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی) یورپ کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور پولیس سے جھڑپوں کے واقعات سامنے آئے جبکہ نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں مائیکروسافٹ کے نئے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے خلاف مظاہرین نے تعمیراتی مقام میں داخل ہو کر احتجاج کیا۔
الجزیرہ کے مطابق جمعہ 6 نومبر کو ایمسٹرڈیم کے علاقے سلوٹرڈائک میں کئی سو مظاہرین نے ڈیٹا سینٹر کے تعمیراتی مقام پر قبضہ کرلیا۔ مظاہرین نے کرین پر چڑھ کر احتجاج کیا اور آتش گیر شعلے بھی روشن کیے، جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس نے تعمیراتی مقام میں غیر قانونی داخلے کے شبہے میں 150 سے 200 افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق سرگرمیوں کے لیے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر ماحولیات، پانی کے وسائل اور شہری نگرانی کے حوالے سے خدشات پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج صرف نیدرلینڈز تک محدود نہیں تھا، بلکہ 15 یورپی ممالک میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف دو روزہ احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ جرمنی کے شہر برلن اور پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں بھی مظاہرے ہوئے۔

دوسری جانب یورپ میں احتجاجی مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور پولیس سے تصادم میں ملوث سیاہ لباس پہنے کارکنوں کے گروہ کو بھی توجہ حاصل ہوئی ہے، جنہیں ’’بلیک بلاک‘‘ کہا جاتا ہے۔ الجزیرہ کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق یہ کوئی باقاعدہ تنظیم نہیں بلکہ احتجاج کا ایک طریقہ ہے، جس میں شرکا سیاہ لباس اور چہروں پر نقاب یا ماسک پہن کر اپنی شناخت چھپاتے ہیں اور بعض مواقع پر پولیس سے جھڑپوں، املاک کو نقصان پہنچانے اور آتش زنی میں ملوث ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس طرزِ احتجاج کی ابتدا 1980ء کی دہائی میں جرمنی سے ہوئی تھی۔ ایسے گروہ فرانس، اٹلی، اسپین اور البانیہ سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں ہونے والے مظاہروں میں دیکھے گئے ہیں۔
فرانس میں 5 نومبر کو اجرتوں میں اضافے، مہنگائی اور عوامی خدمات کے حوالے سے ملک گیر ہڑتال اور مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق ان مظاہروں میں 5 لاکھ 75 ہزار افراد شریک ہوئے، جبکہ مزدور تنظیم نے شرکا کی تعداد 16 لاکھ بتائی۔ حکام کے مطابق ان مظاہروں کے دوران 448 افراد گرفتار اور 53 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

