کیف(رائٹرز/اے پی) یوکرین کے دارالحکومت کیف کے نواحی علاقے میں روسی ڈرون حملے کے بعد اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخیرے میں ہونیوالے زوردار دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق روسی ڈرون نے 28 اگست کو کیف کے مغرب میں واقع گاؤں میلا میں ایک فوجی اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا، جس کے بعد وہاں موجود گولہ بارود، گولوں، بارودی سرنگوں اور ڈرونز میں یکے بعد دیگرے دھماکے ہوئے۔
دھماکوں اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے قریبی علاقے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک بزرگ اور معذور افراد کی نگہداشت کے مرکز کو بھی نقصان پہنچا۔ سیکڑوں افراد کو علاقے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے اسے حکام کی سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا۔
یوکرینی حکام کے مطابق اس واقعے کی مجرمانہ تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ رہائشی آبادی کے قریب گولہ بارود اور دیگر دھماکا خیز مواد کس طرح ذخیرہ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے پرزے اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔زیلنسکی نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو ان کے فیصلوں کا جواب دینا ہوگا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

