آسٹریلیا: سڈنی کے بونڈی بیچ پر یہودی تقریب میں فائرنگ، 12 افراد ہلاک

سڈنی (رائٹرز) آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر یہودی مذہبی تہوار حنوکا کی تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ اتوار کی شام کیا گیا جسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر مال لینن نے بتایا کہ ایک مشتبہ حملہ آور پولیس مقابلے میں ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں ہے، جبکہ تیسرے حملہ آور کی ممکنہ موجودگی کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر مشتبہ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کی بھی تلاشی شروع کر دی ہے۔ آسٹریلوی انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایک مشتبہ حملہ آور پہلے سے اداروں کے علم میں تھا تاہم اسے فوری خطرہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور کہا کہ حنوکا کے پہلے دن یہودی آسٹریلوی شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ فہم ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اور وزیر خارجہ گیڈون سار نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے یہود مخالف دہشت گردی قرار دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہا جس سے ساحل سمندر پر موجود سیکڑوں افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس کے مطابق تقریب میں تقریباً ایک ہزار افراد شریک تھے۔ مسلم تنظیموں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔