بیروت( رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ، بی بی سی)لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور اب تک مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، موجودہ صورتحال کا واحد حل جنگ بندی ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست بات چیت شروع ہو چکی ہے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے یہ اہم پیش رفت ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی لبنان کے ساتھ جلد مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیل ’جلد از جلد‘ بات چیت کا آغاز کرے گا۔ادھر لبنان نے اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے پاکستان سے تعاون طلب کر لیا ہے، اس سلسلے میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور لبنانی وزیرِاعظم نواف سلام کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے لبنان کیخلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان امن کے قیام کیلئےمخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں، اگر جارحیت جاری رہی تو مذاکرات متاثر ہوں گے۔واضح رہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس پر ملک بھر میں یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔

