گلگت الیکشن : چوروں کی” تقسیم ِمال غنیمت“ پر لڑائیاں!

آپ نے اکثر انگریزی میں کہاوت سنی ہوگی کہ
”There is no Honor Among Thieves“
یعنی چوروں میں وفاداری یا اصول نہیں ہوتے۔ یا اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ
”Thieves Fall out over the Spoil“
یعنی اکثر چور لوٹے ہوئے مال کی تقسیم پر آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ تو گلگت بلتستان میں بھی آج کل یہی ہو رہا ہے،،، وہاں 7جون کو جنرل الیکشن ہے ، ،، اس الیکشن کیلئے الحمد اللہ پورے پاکستان سے جوق در جوق سیاسی لیڈران گلگت گئے،،، اور ایسے ایسے وعدے کر کے آئے جن کا وجود ہی نہیں ہے،،، جیسے بجلی کے ہزار یونٹ تک فری کرنے کے دعوے،،، یا سڑکوں کی تعمیر کے وعدے،،،یا سی پیک کے ثمرات وغیرہ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے انہی نام نہاد سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے الیکشن سے قبل عام قومی انتخابات میں چھوٹے اور بے بنیاد وعدے کیے تھے۔ الغرض شعبدہ بازی میں کمال رکھنے والے ہمارے سیاسی قائدین نے اپنے اپنے میدان میں ایسے کرتب دکھائے کہ عقل دھنگ رہ گئی،،، طعنوں سے لے کر للکاروں تک، لفظی گولہ باری سے لے کر تنقید کے نشتر چلانے تک سبھی حربے برابر آزمائے گئے۔لیکن عوام خواہ گلگت بلتستان کے ہوں یا آزاد کشمیر کے ہمیشہ حقوق کے متلاشی نظر آئے ہیں،،،

اورپھر ان دونوں انتظامی یونٹوں میں جب بھی الیکشن ہوتا ہے تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ پاکستان کے بڑے بڑے سیاستدان اپنا اپنا لشکرلے کر پہنچ جاتے ہیں، ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں اور پھر الیکشن کے بعد حکومت بنا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مسائل وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔آپ ہمارے ”ہر دلعزیز “قائد نواز شریف کو دیکھ لیں،،، موصوف وہاں جا کر شکوے شکایات کرتے نظر آئے،،،جس سے وہاں کے عوام کیلئے ہمدردی کیا ہونی تھی،،، ”بیچارگی“ کی ساری کی ساری ہمدردیاں قائد نون لیگ لے گئے،،، کہتے ہیں کہ مجھے یہاں کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پرافسوس ہے،،، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، ،،لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت کو نظر انداز کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ آج این ایف سی کے ذریعے گلگت بلتستان کیلئے فنڈز مانگے جا رہے ہیں، لیکن میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 2017ءمیں میری حکومت نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس نے گلگت بلتستان کے مستقبل کے بارے میں سفارشات مرتب کی تھیں جن پر ہم نے عمل درآمد کرنا تھا، لیکن پھر مجھے حکومت سے نکال دیا گیا۔ نواز شریف صاحب نے شکوے کے انداز میں کہا کہ مجھ سے گلہ نہ کرو، میں گلہ سننے کو تیار نہیں۔ قصور تو آپ کا بھی ہے کیونکہ جب مجھے دیس سے نکالا گیا تو آپ نے ایسا کیوں ہونے دیا؟ آگے چل کر انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کے مسائل حل کرنے کیلئے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ بہرحال شاید نواز شریف بھول گئے تھے کہ 2017ءمیں صرف اُنہیں ہی گھر بھیجا گیا تھا، جبکہ حکومت اُنہی کی تھی،،، یعنی اُن کے جانے کے بعد 2017ءمیں ہی اُن کے جانشین شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے،،، پھر 2022 میں شہباز شریف وزیر اعظم بنے۔2024ءکے انتخابات کے بعد شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنائے گئے۔میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ پھر اسحاق ڈار جو نائب وزیر اعظم ہیں،،، وہ موصوف کے سمدھی ہیں،،، یعنی جب تمام اختیارات آپ کے پاس ہیں تو پھر عوام کے سامنے یہ مگر مچھ کے آنسو کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ اور پھر ن لیگ والے پیپلزپارٹی پر تنقید کر رہے ہیں کہ آپ کو کراچی جیسا شہر چاہیے یا لاہور جیسا؟ پھر یہ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا تے نہیں تھکتے۔

پھر یہی نہیں بلکہ وہاں بلاول بھٹو زرداری (چیئرمین پی پی پی ) نے بھی وہاں خوب محفل جمائے رکھی،،، موصوف ن لیگ پر کڑی تنقید کرتے نظر آئے،،، اور کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں گے، لیکن وہ یہ نہیں بتا رہے کہ سازش کون کر رہا ہے؟پھربلاول بھٹو زرداری نے شریکِ اقتدار دوستوں کو کھلا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ جیسے لاہور میں چلتا ہے ویسے یہاں بھی چلے گا‘ یعنی پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔ پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں کہ جو وفاقی حکومت میں ہیں اور ان کے اُمیدوار مایوس ہیں‘ بھلے دوست ہیں ہمارے مگر اس مرتبہ وہ ہاریں گے۔میرے خیال میں یہ نورا کشتی ہے، کیوں کہ یہ وفاق میں ایک ہیں، اور گلگت میں ایک دوسرے کے مخالف ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں،،، اور پھر پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ ہم نے شہباز شریف کو دو مرتبہ وزیر اعلیٰ بنایا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر اگر وہ غلط کام کر رہے ہیں تو پھر اسکی ذمہ داری بھی پی پی پی پر ہی ہونی چاہیے،،، یعنی پھر گناہ گار بھی آپ ہی ہو۔ اگر وہ ناکام ہے تو پھر اس کے بھی ذمہ دار آپ ہی ہو۔ لیکن یہاں ذمہ داری ہمارے ”بڑے“ نہیں لیتے تو یہ لوگ کیا لیں گے؟

اور پھر حیران کن حد تک یہ بات سب نے ”نوٹ “ کی ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں یعنی ن لیگ اور پیپلزپارٹی اپنے اپنے جلسوں میں پاک فوج اور خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے نظر آئے،،، جیسے بلاول نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی ضرورت ہے ، اور انہوں نے اس حوالے سے پاکستان کی امن کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔۔۔ پھر یہی نہیں بلکہ ن لیگ کے قائدین بھی مقتدرہ کی تعریفیں کرتے نظر آئے،،، بہرحال اس وقت ملک بھر میں عوام ان حکمران جماعتوں سے سخت نالاں ہیں،،، کیوں کہ گورننس کے حوالے سے درپیش مسائل اور کڑے سوالات گلے کا طوق اور پاو¿ں کی بیڑیاں بنتے جا رہے ہیں۔ کہیں جھوٹے ایمانداروں کا راج ہے تو کہیں سچے بے ایمانوں کا سکہ چل رہا ہے۔ نمائشی اقتدامات عوام کی زندگیاں روز بروز اجیرن کرنے کا باعث ہیں۔ نظامِ تعلیم سے لے کر امن و امان تک‘ صحت عامہ سے لے کر تھانے اور پٹوار تک‘ نظامِ انصاف سے لے کرعدم مساوات تک‘ سماجی بگاڑ سے لے کر معاشرتی ناہمواریوں تک‘ خورد برد سے لے کر لوٹ مار تک‘ دھونس اور دھاندلی سے لے کر سینہ زوری تک سبھی مناظر ٹھہر سے گئے ہیں گویا یہی مستقل منظر نامہ ہے۔ پہلے سے موجود سرکاری اداروں کے متوازی اور متبادل نئے محکمے آپے سے باہر ہیں۔ نت نئی فورسزنے عوام کی تذلیل اور تضحیک کو نصب العین بنا لیا ہے۔ نہ کہیں شنوائی ہے نہ دادرسی‘ پورا ملک توشہ خانہ دکھائی دیتا ہے‘ عملاً نہ کوئی نظام ہے نہ قانون اور ضابطے‘ نیتوں کا کھوٹ عوام کی قسمت کھوٹی کیے چلے جارہا ہے‘اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ گلگت کے عوام بھی یہ سب کچھ جانتے ہیں کہ مرکز میں کیا ہو رہا ہے اور باقی صوبوں میں کیا ہو رہا ہے؟ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب مال غنیمت اکٹھا کرتے ہیں اور تقسیم کرتے ہوئے آپس میں لڑ پڑتے ہیں،،، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کو یہ دور دھکیل دیتے ہیں جس کا یقینا مستقبل میں گہرا اثر پڑے گا!

بہرکیف ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ گلگت بلتستان کو لاہور اور کراچی والوں نے آزادی نہیں دلوائی تھی۔ یہاں کے لوگوں نے یکم نومبر 1947ءکو خود ڈوگرہ راج کیخلاف بغاوت کی اور مقامی گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر کے اسلامی جمہوریہ گلگت کی عبوری حکومت کا اعلان کیا۔ بعد ازاں اس عبوری حکومت نے رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کیا۔ پھر ہنزہ اور نگر کی ریاستیں پاکستان میں شامل ہوئیں اور مقامی آبادی نے اپنے زور بازو سے 14 اگست 1948ءکو سکردو آزاد کرایا۔ اس علاقے سے وہ شاہراہِ ریشم گزرتی ہے جو پاکستان کو چین سے ملاتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو تو پلکوں پر بٹھا کر رکھنا چاہیے لیکن افسوس کہ آج گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید سیاسی بے چینی نظر آرہی ہے۔ ان سے کئے جانے والے وعدے پورے نہیں ہوتے۔ ان علاقوں کے لوگوں کا مزاج وسطی پنجاب سے مختلف ہے۔ اگر اس مرتبہ یہاں دھاندلی ہوئی تو اس کا ردِعمل بہت شدید ہو سکتا ہے۔ بجٹ کے بعد مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو پھر نواز شریف اور بلاول پیچھے رہ جائیں گے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر ایسی تحریک شروع ہو سکتی ہے جو کسی سیاسی جماعت کے کنٹرول میں نہیں ہوگی۔

خیر اللہ ملک کیلئے بہتر کرے مگر آخر میں آپ ایک دلچسپ واقعہ ضرور سن لیں کہ جہاں گلگت میں سیاسی جماعتوں کے قائدین موجود ہیں،،، وہیں اس وقت وہاں کیپٹن(ر) صفدر بھی گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں نواز شریف کے شانہ بشانہ اور پیش پیش ہیں۔ جوشِ خطابت میں موصوف نے عوام کا پیسہ کھانے والوں کیلئے دنیا و آخرت میں ذِلت کی دعا کے ساتھ ساتھ نسلوں کی تباہی کی بددعا بھی کر ڈالی۔ ان کے دعائیہ کلمات پر عوام کی طرف سے آمین کی صداؤں نے ماحول خاصا گرما ڈالا۔۔۔ سوشل میڈیا پر کیپٹن (ر) صفدر کا یہ کلپ بوجوہ مقبولیت پکڑ چکا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنماؤں کی گلگت بلتستان میں موجودگی بدشگنی قرار پا چکی ہے۔ ردِّ بلا کیلئے ان کی صوبہ بدری کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس موجودہ حکومتی بندوبست اپنی سفارتی کامیابیوں پر بڑا ناز کر رہا ہےلیکن ان سفارتی کامیابیوں کو سیاسی کامیابیوں میں تبدیل کرنے کیلئے کوئی حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ اگر امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہو جائے تو تیل کی قیمت کم ہو جائے گی اور عوام کو وقتی ریلیف مل سکتا ہے لیکن موجودہ حکومتی بندوبست کی سیاسی نااہلی خود شہباز شریف نہیں بلکہ ریاست کی ساکھ کیلئے بھی ایک مستقل خطرہ ہے۔ اس لیے کم از کم گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروا کے ریاستِ پاکستان کی ساکھ کو کچھ تو سہارا دیں۔اگر ایسا نہ ہو سکا تو لوگ واقعی یہی کہیں گے کہ چور مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے آپس میں لڑ پڑے ہیں،،، اور یہ مال غنیمت گلگت اور آزاد کشمیر کی شکل میں ان کے پاس موجود ہے!