عمان/یروشلم (سی بی سی نیوز، نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز)کینیڈا کے 30 افراد پر مشتمل ایک وفد، جس میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل تھے، کو اردن کے ایلنبی بارڈر کراسنگ کے راستے مغربی کنارے میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران اسرائیل نے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز (این سی سی ایم) کے ترجمان کے مطابق وفد کے تمام اراکین سے ایک فارم پر دستخط کا مطالبہ کیا گیا جس میں انہیں عوامی سلامتی کیلئےخطرہ تسلیم کرنے کا اقرار کرنا تھا، تاہم وفد نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
این سی سی ایم کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفن براؤن نے، جو خود اس دورے میں شامل نہیں تھے، اس پیش رفت کو ’’انتہائی تشویشناک اور مایوس کن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے سی بی سی نیوز کو بھیجے گئے بیان میں کہا کہ وفد کے اراکین کو سرحد پر پہنچنے سے قبل اسرائیل کی جانب سے الیکٹرانک ٹریول اجازت نامے جاری کیے جا چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومت کی جانب سے اُن افراد کی رسائی محدود کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جو مقبوضہ علاقوں کی صورتِ حال خود دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ وفد ایک رجسٹرڈ کینیڈین غیر منافع بخش تنظیم ’’کینیڈین مسلم ووٹ‘‘ کے زیرِ اہتمام اسپانسر شدہ دورے پر تھا اور اردن سے بذریعہ زمین مغربی کنارے میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ وفد میں شامل چھ ارکانِ پارلیمنٹ میں لبرل پارٹی کے ایم پیز سمیر زبیری، فارس السعود، اسلم رانا، اقرا خالد، گربکس سینی اور نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن جینی کوان شامل ہیں۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا منصوبہ تھا کہ وہ سول سوسائٹی کے نمائندوں، فلسطینی مہاجرین، اندرونِ ملک بے گھر افراد، کینیڈین حکام اور فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں۔ این سی سی ایم کے مطابق یہ ملاقاتیں یروشلم، جنین، الخلیل اور مختلف مہاجر کیمپوں سمیت خطے کے متعدد مقامات پر طے تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وفد کے تمام اراکین محفوظ ہیں اور اب اردن واپس جا رہے ہیں، جہاں وہ چند ملاقاتوں کے بعد کینیڈا واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دریں اثنا، این ڈی پی کی رکن جینی کوان نے گزشتہ ہفتے سی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ انہیں خدشہ تھا کہ اسرائیل اور کینیڈا کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے کشیدہ تعلقات کے باعث وفد کو داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تقریباً تین ماہ قبل کینیڈا نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا، جس پر اسرائیل نے شدید ردِعمل دیا تھا۔
سی بی سی نیوز نے اسرائیلی حکام سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم تاحال کوئی تازہ جواب سامنے نہیں آیا۔

