اسلام آباد:صدر آصف علی زرداری کا یوم پاکستان کے موقع پرخصوصی پیغام

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب آصف علی زرداری نے یوم پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہاہے کہ میں‌پوری پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج ہی کے دن 1940 میں برصغیر کے مسلمانوں نے قرارداد پاکستان منظور کی اور ایک علیحدہ وطن کے قیام کا نظریہ پیش کیا جہاں وہ اسلامی اقدار کے مطابق آزادانہ طور پر اپنی زندگی گزار سکیں۔ آج ہم اپنے بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔

یوم پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی عزم کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے اتحادو یکجتی سب سے اہم عنصر ہے۔ 1947 میں قیام پاکستان کے وقت ہمیں بے شمار چیلنجو کا سامنا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے باہمی تعاون، محنت اور صلاحیت کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پایا اور ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ہم نے ریاستی ادارے قائم کیے، اپنی دفاعی صلاحیت کو ناقابل تسخیر بنایا، جوہری دفاعی صلاحیت حاصل کی، دہشت گردی کے خلاف طویل اور کامیاب غیر روایتی جنگ لڑی اور قدرتی آفات کے دوران ایثار اور باہمی تعاون کی روشن مثالیں قائم کیں۔

گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کے دوران ہم نے دشمن کی جارحیت کا بے خوفی سے مقابلہ کیا اور اسے ایسا سبق سکھایا جسے وہ طویل عرصے تک یاد رکھے گا۔ آج بھی ہمیں داخلی محاذ اور بیرونی سرحدوں پر چیلنجو کا سامنا ہے۔ بنیان المرصوص کی طرح آپریشن غضب للحق نے بھی نمایاں اور مطلوبہ نتائج حاصل کیے ہیں۔ افغانستان پر غیر قانونی مسلط ٹولے کو ہمارا واضح پیغام ہے کہ ہم فتنہ الخوارج، فتنه الهندوستان یا کسی بھی دوسرے گروہ کو افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف کارروائیوں کا موقع نہیں دینگے۔ ہم دہشت گردی کی سرپرستی اور بھارت یا اس کے گماشتہ عناصر کے ذریعے اپنے امن اور پر امن بقائے باہمی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کی بھی مکمل بیخ کنی کریں گے تا کہ ہماری بستیاں اور سرحدیں محفوظ ہوں۔

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں، ہندو توا کی سر پرستی اور بھارت میں بالخصوص مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا نارواسلوک اس بات کا ثبوت ہے کہ قائد اعظم اور مسلم قیادت کا علیحدہ وطن کا فیصلہ نهایت دانشمندانہ تھا۔ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈہ ہے۔ ہم عالمی برادری سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق انہیں خود ارادیت کا حق دلوانے کے لیے بھارت پر زور دے۔ عالمی برادری کو آگے بڑھ کر ہمارے فلسطینی بھائیوں پر ہونے والے مظالم کا بھی خاتمہ کرنا ہو گا جو مسلمہ دو ریاستی حل اور پُر امن بقائے باہمی کے تحت باوقار اور پر امن زندگی گزارنے کے حق دار ہیں۔ اسی طرح ہم مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہیں۔

یوم پاکستان کے موقع پر ہمیں یہ عزم کرنا ہو گا کہ ہم قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں، عدم مساوات کو کم کریں، خواتین کو بااختیار بنائیں، سیاسی و معاشی استحکام کو فروغ دیں اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے ناسور کا خاتمہ کریں۔ ہم ماضی میں اپنے اہداف حاصل کرتے آئے ہیں اور مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم پاکستان کو در پیش موجودہ چیلنجو پر بھی قابو پا۔ پانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم وہ روشن اصول ہیں جن پر کاربند ہو کر ہم پاکستان کستان کو اور بھی مضبوط اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔

آئیے اپنے قومی ہیروز، قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کی خاطر قربانیاں دینے والے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کریں جنہوں نے مادر وطن کی سلامتی، استحکام ! اور خوشحالی کیلئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین! پاکستان زندہ باد