امریکا ایران سے معاہدے کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟ کوری بکر

واشنگٹن(امریکی سینیٹ، رائٹرز، امریکی ذرائع ابلاغ)امریکا کے ڈیموکریٹ سینیٹر کوری بکر نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر امریکا ایران سے معاہدے کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟

سینیٹ میں پیشی کے دوران انہوں نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے سخت سوالات کیے اور کہا کہ امریکا ایک ایسے معاہدے کی جانب واپس جانا چاہتا ہے جسے وہ خود پہلے مسترد کر چکا تھا۔کوری بکر نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے، اس کے باوجود امریکا مذاکرات پر زور دے رہا ہے۔

جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم ہو چکی ہے اور مذاکرات کے لیے کسی قسم کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات ایک انتہائی فنی اور پیچیدہ معاملہ ہے، جو پانچ دن میں طے نہیں ہو سکتا۔

مارکو روبیو کے مطابق اس موضوع پر ماہرین کے اجلاس ایک، دو یا حتیٰ کہ تین ماہ تک بھی جاری رہ سکتے ہیں، جبکہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر تلف کرنے سے متعلق مذاکرات کے لیے واضح عہد کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ایران اپنے جوہری پروگرام کے جن پہلوؤں پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے، ماضی میں وہ ان موضوعات پر گفتگو سے انکار کرتا رہا ہے۔