امریکی ٹیرف ہمیں آزما سکتے ہیں، ہماری شناخت متعین نہیں کرسکتے: کینیڈین رہنماؤں کا عزم

مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) امریکی ٹیرف اور اس کے نتیجے میں کینیڈین کاروبار، کارکنوں اور معیشت کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے مسی ساگا میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا اہتمام مسی ساگا ایرن ملز سے رکنِ پارلیمنٹ اقرا خالد نے کیا۔ تقریب میں میئر مسی ساگا کیرولین پیرش، وفاقی وزیر برائے خواتین و صنفی مساوات اور چھوٹے کاروبار و سیاحت کی سیکریٹری آف اسٹیٹ ریچی والڈیز، رکنِ پارلیمنٹ پیٹر فونسیکا، مسی ساگا ایرن ملز سے صوبائی رکنِ اسمبلی شریف سباوی، مسی ساگا بورڈ آف ٹریڈ کے نمائندگان اور دیگر سیاسی و کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

مسی ساگا ایرن ملز سے رکنِ پارلیمنٹ اقرا خالد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسی ساگا کیلئے ہمارا پیغام واضح ہے کہ ہم متحد ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کیلئےمل کر کام کر رہے ہیں کہ مسی ساگا کے رہائشی، یہاں کے کاروبار اور کاروباری سرگرمیاں مضبوط رہیں اور ترقی کرتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کینیڈا یقینی بنائیں گے جو ہم سب کو آگے بڑھنے میں مدد دے۔ کینیڈا کے ساتویں بڑے شہر کی حیثیت سے مسی ساگا کا کینیڈا کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ہے۔

اقرا خالد نے کہا کہ ہم کینیڈین کسی دوسرے ملک کے تابع نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیک اونٹاریو جس کا مطلب ’’بڑی اور خوبصورت‘‘ ہے، آنے والی نسلوں اور مستقبل کی نسلوں کیلئے لیک اونٹاریو ہی کہلائے گی۔ کینیڈا ہمارا ’’ٹرو نارتھ، اسٹرونگ اینڈ فری‘‘ رہے گا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکا نے کینیڈین عوام کے روزگار کو نشانہ بنایا ہے۔ غیرمعمولی طور پر بلند ٹیرف کے ذریعے اس فیکٹری ورکر کو نشانہ بنایا گیا ہے جو صبح سویرے ، طلوع آفتاب سے پہلے کام پر پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیرف نے اس چھوٹے کاروباری مالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کا منافع پہلے ہی بہت محدود ہے، جبکہ ایسے صنعت کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے مستحکم سپلائی چین بنانے میں کئی دہائیاں صرف کی ہیں۔

جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی سے گفتگو کرتے ہوئے اقرا خالد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے متعلق سوال کا جواب دیا جس میں لیک آنٹاریو کو ’’لیک آف امریکہ‘‘ قرار دینے کی بات کی گئی تھی۔اقرا خالد نے کہا کہ لوگوں کا کام بات کرنا ہے، ہمارا کام بطور کینیڈا اپنی خودمختاری اور اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے، اور ہم وہی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا ٹیرف، جواباً عائد کیے جانے والے ٹیرف، اپنی آرکٹک اسٹریٹیجی اور دیگر اقدامات کے ذریعے اپنے ملک کا دفاع کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیک اونٹاریوکا مقامی زبان میں مطلب ’’بڑا اور خوبصورت‘‘ ہے۔ کینیڈا بڑا بھی ہے اور خوبصورت بھی، اور یہ جھیل لیک آنٹاریو ہی رہے گی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ اس وقت کینیڈین عوام کو تنگ کر رہے ہیں تو اقرا خالد نے کہا کہ ہم صرف اپنے ملک کے بارے میں بات کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی جنگ ہم نے شروع نہیں کی، لیکن اسے ختم ضرور کریں گے۔

مسی ساگا کی میئر کیرولین پیرش نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب کاروباری ادارے اپنے روزگار کو محفوظ رکھنے، صارفین کو خدمات فراہم کرنے اور اپنے دروازے کھلے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایسے وقت میں انہیں حکومتی مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام واضح ہے کہ مدد کاروباری اداروں تک تیزی سے پہنچنی چاہیے اور یہ مدد ہر حجم کے کاروبار تک پہنچنی چاہیے۔کیرولین پیرش نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود وہ پرامید ہیں۔ مسی ساگا ہمیشہ ایک ایسے شہر کے طور پر سامنے آیا ہے جو دنیا کی طرف دیکھتا ہے، مواقع کو قبول کرتا ہے اور تبدیلی کے ساتھ خود کو ڈھالتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس سے قبل بھی معاشی بحرانوں کا سامنا کرچکے ہیں اور اس بحران سے بھی دوبارہ کامیابی کے ساتھ نکلیں گے۔میئر نے کہا کہ مسی ساگا اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا، کاروباری اداروں کی حمایت جاری رکھے گا، اپنے تجارتی تعلقات مضبوط بنائے گا اور حکومت کی تمام سطحوں پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ کینیڈا اس چیلنج سے زیادہ مضبوط ہوکر نکلے۔

کیرولین پیرش نے کہا کہ امریکی ٹیرف ہمیں آزما سکتے ہیں، لیکن یہ ہماری شناخت متعین نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’’ٹیم کینیڈا‘‘ کی حیثیت سے ہم اس صورتحال کا اعتماد، استقامت اور عزم کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔میئر مسی ساگا نے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، مسی ساگا بورڈ آف ٹریڈ اور تقریب میں موجود تمام افراد کا شہر کے ساتھ کھڑے ہونے پر شکریہ ادا کیا۔

وفاقی وزیر برائے خواتین و صنفی مساوات اور چھوٹے کاروبار و سیاحت کی سیکریٹری آف اسٹیٹ ریچی والڈیز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں اس خوبصورت مقام پر موجود ہونا ان کیلئے باعثِ خوشی ہے۔ انہوں نے اقرا خالد کا لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے پر شکریہ ادا کیا اور میئر کیرولین پیرش اور تمام مقامی کونسلرز کا بھی سٹی سینٹر میں میزبانی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے رکنِ پارلیمنٹ پیٹر فونسیکا، صوبائی رکنِ اسمبلی شریف سباوی اور مسی ساگا بورڈ آف ٹریڈ کے ڈیوڈ ٹائلر کا بھی شکریہ ادا کیا۔

ریچی والڈیز نے کہا کہ مسی ساگا بورڈ آف ٹریڈ کے ساتھ حکومت کئی برسوں سے شراکت داری میں کام کر رہی ہے اور کاروباری اداروں کے لیے اس کی وکالت قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود ایک سابق چھوٹے کاروبار کی مالک ہونے کی حیثیت سے وہ جانتی ہیں کہ اس وقت مسی ساگا میں رہنے والے تمام افراد، بالخصوص چھوٹے کاروباروں کے لیے متحد ہوکر آواز بلند کرنا کتنا اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی معاشی طاقت ہمیشہ اس کے عوام، کارکنوں اور ان کاروباری اداروں سے آئی ہے جو ملک بھر اور بالخصوص مسی ساگا میں روزگار اور مواقع پیدا کرتے ہیں۔ریچی والڈیز نے کہا کہ مسی ساگا میں ہمیں یہ طاقت واضح طور پر نظر آتی ہے اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے وقت کینیڈین کاروباروں اور کارکنوں کی حمایت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ٹیرف پہلے ہی کچھ عرصے سے عائد کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود کینیڈا مضبوط اور لچکدار رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری سہ ماہی کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق کینیڈا کی جی ڈی پی میں 3.3 فیصد اضافہ ہوا، فی کس جی ڈی پی 3.9 فیصد بڑھی، کاروباری سرمایہ کاری میں 8.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ برآمدات میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور مسلسل چار ماہ سے کینیڈا کو تجارتی سرپلس حاصل ہوا ہے۔

ریچی والڈیز نے کہا کہ ان اعداد و شمار کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ ٹیرف لگائے جانے کے باوجود کینیڈا نے اپنی لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی ایسا ہی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک سنجیدہ مرحلہ ہے، تاہم کینیڈین عوام کے لیے یہ بات واضح ہونا ضروری ہے کہ حکومت کی تمام سطحیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کررہی ہیں۔ریچی والڈیز نے کہا کہ کینیڈین حکومت نے امریکا کے ساتھ منصفانہ اور جامع تجارتی معاہدے کے لیے بھرپور اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم امریکا کی جانب سے پیش کردہ تازہ شرائط کینیڈا کے بہترین مفاد میں نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے بہت زیادہ مطالبات کیے اور کینیڈا کے فائدے کیلئے بہت کم پیشکش کی۔ریچی والڈیز نے واضح کیا کہ کینیڈا ایسا برا معاہدہ قبول نہیں کریگاجو کینیڈین کارکنوں، کاروباری اداروں، اسٹریٹجک شعبوں یا قومی مفادات کو نقصان پہنچائے۔ کینیڈا کی خودمختاری مذاکرات کیلئےدستیاب نہیں اور نہ ہی کینیڈین کارکنوں، کاروباروں اور معیشت کے تحفظ کی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تمام فیصلے ذمہ داری سے اور ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گی۔ریچی والڈیز نے کہا کہ کینیڈا نے یہ تنازع منتخب نہیں کیا، تاہم حکومت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے اور غیر یقینی کے اس دور میں کینیڈین عوام کی مدد کرنے کا منصوبہ موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے امریکی ٹیرف سے متاثرہ کارکنوں اور کاروباری اداروں کے لیے 7.5 ارب ڈالر کی نئی اور اضافی معاونت کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس سے قبل تقریباً 25 ارب ڈالر فراہم کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کے لیے علاقائی ٹیرف رسپانس انیشی ایٹو کو مضبوط کیا جارہا ہے، جس کے ذریعے BDC کے ٹیرف سے متعلق پروگراموں تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ریچی والڈیز نے کہا کہ پورے کینیڈا کا سفر کرتے ہوئے کاروباری اداروں نے انہیں بتایا کہ انہیں زیادہ نقدی اور مالی سہولت کی ضرورت ہے، کیونکہ امریکی ٹیرف کے باعث ان پر کیش فلو کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ BDC کے Pivot to Grow پروگرام کے ذریعے 500 ملین ڈالر کی نئی لیکویڈیٹی سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت Canada Strong Diversification Fund بھی قائم کررہی ہے تاکہ ٹیرف سے متاثرہ کاروباری ادارے تیار منصوبوں کو آگے بڑھا سکیں اور عالمی مسابقت میں اپنی صلاحیت مضبوط کرسکیں۔ریچی والڈیز نے کہا کہ انہوں نے بہت سے ایسے کاروباری اداروں سے ملاقات کی ہے جو توسیع کے لیے تیار ہیں، لیکن امریکی ٹیرف کے باعث ان کے منصوبے محدود ہوسکتے ہیں۔ نیا فنڈ ایسے کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری اور اپنے تیار منصوبے آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں اور آجروں کیلئے آمدنی، تربیت اور افرادی قوت برقرار رکھنے کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایمپلائمنٹ انشورنس (EI) سپورٹ بھی فراہم کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق جب چھوٹے کاروبار دباؤ کا شکار ہیں تو کینیڈین کارکن بھی اپنی ملازمتوں کے حوالے سے فکر مند ہیں، تاہم حکومت انہیں یقین دلانا چاہتی ہے کہ انہیں اپنی ملازمت کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت روزگار کے تحفظ کے لیے توسیع اور لچک فراہم کرے گی اور اس دوران کارکنوں کو مزید تعلیم اور تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی مہارتوں میں اضافہ کرسکیں، نئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال سکیں اور کینیڈا کی معیشت میں اپنا کردار جاری رکھتے ہوئے اسے مزید ترقی دیں۔

جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ریچی والڈیز نے لیک آنٹاریو کے نام سے متعلق امریکی بیان پر کہا کہ لیک آنٹاریو گزشتہ 400 برس سے اسی نام سے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسا کہ وزیراعظم نے بھی زور دیا ہے، اس نام کا بنیادی مطلب ’’خوبصورت جھیل‘‘ ہے اور بطور کینیڈین ہم لیک آنٹاریو کی حمایت جاری رکھیں گے۔ریچی والڈیز نے واضح کیا کہ اس جھیل کو ہمیشہ لیک آنٹاریو ہی کہا جائے گا اور ہمیشہ لیک آنٹاریو ہی کہا جاتا رہے گا۔

مسی ساگا ایسٹ کوکسبل سے رکنِ پارلیمنٹ پیٹر فونسیکا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈین کاروباری اداروں کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنانا ضروری ہے، بالخصوص امریکی ٹیرف کے تناظر میں۔انہوں نے کہا کہ بعض کینیڈین کمپنیوں کی جانب سے امریکا کو برآمد کی جانے والی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہونے کی صورت میں ان کمپنیوں پر پڑنے والے اثرات انتہائی اہم ہیں۔پیٹر فونسیکا نے بتایا کہ کاروباری اداروں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر امریکا سے اسی نوعیت کی مصنوعات کینیڈا کی مارکیٹ میں درآمد کی جاتی ہیں تو کینیڈا کی جانب سے عائد کیے گئے جوابی ٹیرف بھی ان امریکی مصنوعات پر لاگو ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دراصل کینیڈین کاروباری اداروں کے ساتھ منصفانہ سلوک اور ان کے مفادات کے دفاع کا معاملہ ہے۔پیٹر فونسیکا نے کہا کہ کونسلرز، میئرز، ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی ارکانِ اسمبلی کی حیثیت سے وہ کاروباری برادری سے اسی نوعیت کی ٹھوس معلومات اور مسائل سے متعلق رابطے چاہتے ہیں تاکہ کاروباری اداروں کی مؤثر مدد کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے یہ پیغام کاروباری اداروں تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کرسکتے ہیں، کیونکہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی مدد کیلئےیہاں موجود ہیں۔

مسی ساگا ایرن ملز سے رکنِ صوبائی اسمبلی اور وزیر محنت، امیگریشن، ٹریننگ و اسکلز ڈیولپمنٹ کے پارلیمانی اسسٹنٹ شریف سباوی نے خطاب کرتے ہوئے اقرا خالد، میئر اور تمام منتخب نمائندگان کا شکریہ ادا کیا جو کینیڈین عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے یہاں موجود تھے۔انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ مسی ساگا ایرن ملز کے MPP اور وزیر محنت، امیگریشن، ٹریننگ و اسکلز ڈیولپمنٹ کے پارلیمانی اسسٹنٹ ہیں۔

شریف سباوی نے کہا کہ وہ آج صرف ایرن ملز، مسی ساگا اور اونٹاریو کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے فخر مند کینیڈین کی حیثیت سے بھی موجود ہیں جو 31 سال قبل کینیڈا ہجرت کرکے آیا اور آج کینیڈا کو اپنا گھر کہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم سب ایک ہیں، متحد ہیں، مضبوطی سے کھڑے ہیں اور کینیڈا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ساحل سے ساحل تک ’’ٹیم کینیڈا‘‘ ثابت قدم، باوقار اور اپنے مشترکہ مقصد اور عزائم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی بھی چیلنج ہو، ہم مل کر ہر آزمائش کا مقابلہ کریں گے۔ ’’ٹیم کینیڈا‘‘ کے طور پر متحد ہوکر ہم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔شریف سباوی نے کہا کہ وہ پریمیئر ڈگ فورڈ کے حوالے سے اپنی بات دل سے کہنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں تقریب سے خطاب کرنے کا موقع آخری وقت میں ملا۔انہوں نے کہا کہ پریمیئر ڈگ فورڈ نے اپنے کاروباری ذہن، کاروباری پس منظر اور تجربے کی بنیاد پر ابتدائی مرحلے ہی میں سمجھ لیا تھا کہ کینیڈین عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

شریف سباوی نے کہا کہ یہ بات سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ ٹیرف ہمارے روزگار، کارکنوں، فیکٹریوں اور صنعتوں پر حملہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اونٹاریو حکومت نے Skills Development Fund کے لیے 7.8 ارب ڈالر مختص کیے ہیں، جس کے ذریعے آجروں اور ملازمین کو روزگار برقرار رکھنے میں مدد دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ Skills Development Fund کے ساتویں مرحلے پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ اور آپریشنل سپورٹ فنڈنگ بھی فراہم کررہی ہے تاکہ وہ ٹیرف کے باوجود اپنی پیداوار جاری رکھ سکیں۔

شریف سباوی نے کہا کہ یہ اقدامات کام کررہے ہیں اور صرف جولائی میں اونٹاریو میں 75 ہزار ملازمتوں کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مارکیٹ میں ایک ماہ کے دوران 75 ہزار ملازمتوں کا اضافہ بہت بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جس انفراسٹرکچر کی تعمیر کررہی ہے وہ کاروبار اور صنعت کو آنے والے تقریباً دس برس تک تعمیراتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے مواقع فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مسی ساگا میں کینیڈا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہسپتال تعمیر کیا جارہا ہے، جبکہ اسکوائر ون کے قلب میں ایل آر ٹی ٹرانسپورٹیشن منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کینیڈین اور اونٹاریو کے شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 42 ہزار طویل مدتی نگہداشت کے مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔شریف سباوی نے کہا کہ ان تمام انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ 413 کے حوالے سے بھی بڑا منصوبہ جاری ہے، جسے انہوں نے شمالی امریکا میں سب سے بڑا نیا جوہری منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹا ماڈیولر ری ایکٹر اور جوہری بجلی کی پیداوار کے منصوبے بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام منصوبے آنے والے عرصے میں روزگار کی ضمانت فراہم کریں گے اور مزید تعمیراتی کارکنوں کی ضرورت ہوگی۔

شریف سباوی نے کہا کہ اونٹاریو حکومت اپنے کارکنوں کی حمایت کررہی ہے۔ کینیڈا G7 کا رکن محض اتفاق سے نہیں بلکہ اپنی تعمیر اور صنعتی بنیاد کی وجہ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا اپنی مضبوط صنعتی بنیاد کے ساتھ G7 میں اپنا مقام برقرار رکھے گا، اونٹاریو کے کارکنوں کی حمایت جاری رکھے گا اور مشکل وقت میں کاروباری اداروں کو بھی سپورٹ فراہم کرتا رہے گا۔انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام کینیڈا کو ’’ٹرو نارتھ، اسٹرونگ اینڈ فری‘‘ قرار دیتے ہوئے متحد اور ایک دل کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کے ساتھ کیا۔

جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شریف سباوی نے کہا کہ لیک آنٹاریو ہمیشہ کینیڈا کا حصہ رہے گی اور کوئی بھی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ لیک آنٹاریو ہمیشہ کینیڈا اور اونٹاریو کی ملکیت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام خود بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شریف سباوی نے کہا کہ کینیڈا اور اونٹاریو کی حکومتیں عوام کو بہترین سہولیات، روزگار، رہائش اور معیاری زندگی فراہم کرنے کیلئےمل کر کام کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اونٹاریو حکومت کی ترجیح مقامی اور کینیڈین مصنوعات اور کمپنیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔شریف سباوی نے کہا کہ ہمیں امریکی عوام یا وہاں رہنے والے خاندانوں سے کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ اعتراض صرف موجودہ امریکی انتظامیہ کی بعض پالیسیوں اور ٹیرف سے متعلق اقدامات پر ہے۔