مسی ساگا (باباعرفان ملک سے)کینیڈین پیس اینڈ یونٹی آرگنائزیشن (CPUO) اور سرکل آف اسٹارز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بریسٹ کینسر سے بچاؤ اور خواتین میں بیماری سے متعلق آگاہی کیلئےخصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کمیونٹی رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد احمد نے کہا کہ بریسٹ کینسر ایک اہم معاشرتی اور صحت کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں خواتین اور خاندانوں میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کی بروقت تشخیص نہ صرف علاج کے امکانات بہتر بناتی ہے بلکہ قیمتی انسانی جانیں بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے کینیڈین پیس اینڈ یونٹی آرگنائزیشن اور سرکل آف اسٹارز فاؤنڈیشن کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے، کمیونٹی کو مضبوط کرنے اور بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئےکی جانیوالی کوششوں کو سراہا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بریسٹ کینسر کی روک تھام اور بروقت تشخیص کے حوالے سے آگاہی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصروفیات کے باوجود انہوں نے اس تقریب میں شرکت کو ضروری سمجھا کیونکہ یہ ایک اہم عوامی مسئلہ ہے۔
سونیا سدھو نے کہا کہ کینیڈا میں ہر سال ہزاروں خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہیں اور بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص کے لیے اسکریننگ اور آگاہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بریسٹ کینسر کی اسکریننگ سے متعلق گائیڈ لائنز میں بہتری اور کم عمر میں تشخیص کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور ارکان پارلیمنٹ بریسٹ کینسر کی روک تھام اور اس کی جلد تشخیص کے لیے کام کر رہے ہیں، تاکہ خواتین کو بروقت طبی سہولیات اور مناسب رہنمائی فراہم کی جاسکے۔
تقریب کے دوران بریسٹ کینسر سے متعلق خصوصی پریزنٹیشن بھی دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ کینیڈا میں ہر سال تقریباً 33 ہزار خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ پریزنٹیشن میں بیماری کے خطرے کے مختلف عوامل، علامات، خاندانی تاریخ اور جینیاتی عوامل کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔
شرکا کو بتایا گیا کہ بریسٹ کینسر کے خطرے میں خاندانی تاریخ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر خاندان میں والدہ، بہن، بیٹی یا خالہ کو بریسٹ کینسر ہو تو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ پریزنٹیشن میں BRCA جینز کا بھی ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ بعض خواتین میں ان جینیاتی تبدیلیوں کی موجودگی بیماری کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہے۔
پریزنٹیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بریسٹ کینسر صرف ان خواتین تک محدود نہیں جن کے خاندان میں پہلے سے اس بیماری کی تاریخ موجود ہو بلکہ اسپوراڈک بریسٹ کینسر بھی عام ہے۔ کم عمری میں بلوغت کا آغاز بھی بیماری کے ممکنہ خطرے کے عوامل میں شامل ہے۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ کینسر کے حوالے سے معاشرتی سطح پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں بروقت طبی معائنہ کرانا چاہیے۔ بروقت تشخیص بیماری کے کامیاب علاج کے امکانات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔
تقریب کے منتظمین نے بتایا کہ کینیڈین پیس اینڈ یونٹی آرگنائزیشن 2005 سے کمیونٹی سروسز، امن، اتحاد اور بالخصوص بزرگوں سے متعلق مسائل کے لیے خدمات انجام دے رہی ہے، جبکہ سرکل آف اسٹارز فاؤنڈیشن خواتین کو بااختیار بنانے اور کمیونٹیز کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف پروگرامز اور سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر سونیا سدھو، دیپک آنند، شیرف صباوی اور پیٹرک براؤن نے مہمانوں اور شرکا میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے۔ اس موقع پر منتظمین نے بریسٹ کینسر سے بچاؤ، خواتین کو بااختیار بنانے اور کمیونٹی میں صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

