یوسف والا کوئلہ ٹرین کے 11 ویگن پٹڑی سے اتر گئے،راول ایکسپریس بھی ڈی ریل

لاہور/رحیم یار خان (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) یوسف والا کوئلہ ٹرین خانپور اور لیاقت پور کے درمیان فیروزہ ریلوے اسٹیشن کے قریب لوپ لائن پر ریت کے ڈھیر سے ٹکرا کر ڈی ریل ہوگئی، حادثے میں ٹرین کے انجن سمیت 11 ویگن پٹڑی سے اتر گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ بریکس میں خرابی یا ڈرائیور کی جانب سے بروقت بریک نہ لگانے کے باعث پیش آیا۔

ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے ساہیوال کول پاور پلانٹ کیلئے 3 ہزار 300 ٹن کوئلہ لے جانے والی اپ یوسف والا کوئلہ ٹرین YSW-C 9042 دوپہر 12 بجے جیتھا بھٹہ ریلوے اسٹیشن سے بحفاظت گزری، تاہم 12 بج کر 25 منٹ پر گارڈ کو فیروزہ اسٹیشن کے قریب 11 ویگنوں کے ڈی ریل ہونے کی اطلاع ملی۔

حادثے میں بیشتر ویگنوں کو شدید نقصان پہنچا، تاہم انجن کا عملہ اور گارڈ محفوظ رہے۔ حادثے کے باعث اپ ٹریک پر ریلوے ٹریفک معطل ہوگئی اور کراچی سے آنے والی تمام ٹرینوں کو ڈاؤن ٹریک سے گزارا گیا۔

ذرائع کے مطابق ٹرین کے مقررہ مقام سے آگے نکل جانے اور پوائنٹ تبدیل نہ ہونے کے باعث حادثہ پیش آیا، جبکہ ایک اور ذریعے نے ناقص بریک سسٹم کو حادثے کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ریلوے ذرائع کے مطابق اگر ٹرین میں ایسے ویگن موجود ہوں جن کے بریک ناقص یا ناکافی ہوں تو ڈرائیور کی جانب سے بریک لگانے کے باوجود ٹرین کو بروقت روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔

حادثے کے بعد سماسٹہ ریلوے اسٹیشن سے امدادی ٹرین جائے حادثہ پر روانہ کی گئی، جبکہ پٹڑی کی بحالی اور متاثرہ ویگنوں کو ہٹانے کا کام رات گئے تک جاری رہا۔ ریلوے حکام کے مطابق فیروزہ کے قریب اپ ٹریک کو ٹرینوں کی آمدورفت کیلئےبحال ہونے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں، تاہم تمام ٹرینیں ڈاؤن ٹریک سے گزارنے کا انتظام کیا گیا۔

ریلوے کے ایک افسر نے کہا کہ مین لائن، خصوصاً ملتان، سکھر اور کراچی ڈویژنز میں، آپریشنل مسائل کے تدارک کے بغیر ٹرین آپریشن جاری ہے، جو مسافروں، عملے اور ریلوے انفرااسٹرکچر کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ ان کے مطابق پرانی ریلوے پٹڑی، خراب رولنگ اسٹاک اور انسانی غلطیاں حادثات کی اہم وجوہات ہیں اور اگر صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں بڑے جانی حادثات کا خدشہ ہے۔

یہ یوسف والا کوئلہ ٹرین کا رواں سال 10 جولائی کے بعد تقریباً دو ماہ میں چوتھا حادثہ ہے۔ 10 جولائی کو ٹرین ہڑپہ اسٹیشن کے قریب ڈی ریل ہوئی، 19 جولائی کو سندھ کے وہاب شاہ اسٹیشن کے قریب اس کے کئی کوئلہ بردار ویگن پٹڑی سے اتر گئے جبکہ 29 جولائی کو جنگ شاہی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین ریت کے ڈھیر سے جا ٹکرائی تھی۔

دوسری جانب راول ایکسپریس بھی جہلم کے قریب کالا گجراں کے مقام پر ڈی ریل ہوگئی۔ لاہور جانے والی ٹرین کا انجن اور دو کوچز مین لائن ون پر پٹڑی سے اتر گئے، جس کے باعث کم از کم پانچ گھنٹے تک ریلوے ٹریفک معطل رہی۔ شدید گرمی میں مسافر ٹرین میں پھنسے رہے جبکہ متعدد مسافروں نے ٹرین چھوڑ کر سڑک کے ذریعے اپنی منزل کی جانب سفر کیا۔

رپورٹ کے مطابق 5 جولائی سے 5 اگست تک یوسف والا کوئلہ ٹرین کے علاوہ دیگر ٹرینوں کے تقریباً سات ڈی ریلمنٹ اور حادثات بھی رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں شالیمار ایکسپریس، بلھے شاہ، ہزارہ ایکسپریس، تیزگام اور تھل ایکسپریس کے واقعات شامل ہیں۔