تہران (ایجنسیاں) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اپنے دفاع میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے جائز اقدام ہیں اور امریکی اہداف پر ایرانی کارروائیاں امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کا ردعمل ہیں۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے تنازع کا انتخاب نہیں کیا بلکہ وہ اپنے دفاع میں اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع بلااشتعال، غیر مطلوبہ اور ناجائز ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ حملوں کے جواب میں کارروائیاں کیں جن میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایرانی عوام، طالبات اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اسپتالوں پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکا گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے بعد ہونے والی جنگ بندی بھی توڑ چکے ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اگر جنگ بندی کی بات کی جاتی ہے تو جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے، جب تک ایسا نہیں ہوتا ایران کو اپنے عوام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے لڑائی جاری رکھنا پڑے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت یہ واضح نہیں کہ ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا، اس حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، تاہم حتمی فیصلہ اس وقت ہوگا جب اسمبلی آف ایکسپرٹس اجلاس کر کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کرے گی۔
ان کے مطابق اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 سینئر علما پر مشتمل ادارہ ہے جو ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے اور اس کے ارکان ایرانی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور ایران کبھی بھی ٹرمپ کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی شرط قبول نہیں کرے گا۔

