لندن (فنانشل ٹائمز، غیر ملکی میڈیا)برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی نظام اور اسلحہ فراہم کیا، جن میں ایک جدید لیزر بیسڈ ڈیفنس سسٹم بھی شامل تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ’’اسپیکٹرو‘‘ نامی ایک جدید سرویلنس سسٹم یو اے ای کو فراہم کیا، جو تقریباً 20 کلومیٹر تک فاصلے پر آنے والے ڈرونز، خصوصاً ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز، کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنا جدید لیزر دفاعی نظام ’’آئرن بیم‘‘ بھی فراہم کیا، جو مختصر فاصلے کے راکٹوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے یو اے ای کو اپنا فضائی دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ بھی فراہم کیا، جبکہ ان نظاموں کے ساتھ درجنوں اسرائیلی فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کے حوالے سے حقیقی وقت کی انٹیلی جنس معلومات بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ شیئر کیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض دفاعی نظام ابھی مکمل طور پر آزمائشی مراحل میں تھے یا اسرائیلی ریڈار نیٹ ورک سے مکمل طور پر منسلک نہیں تھے، جس سے اس تعاون کی ہنگامی نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2000 سے زیادہ ڈرونز فائر کیے، جن میں سے بیشتر کو دفاعی نظاموں نے ناکام بنا دیا۔
تاہم ان حملوں کے باعث امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ جدید انٹرسیپٹر میزائل انتہائی مہنگے اور محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔ماہرین کے مطابق کم لاگت اور مؤثر دفاعی ٹیکنالوجی، خصوصاً لیزر سسٹمز، کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ چھوٹے اور کم حرارتی نشان رکھنے والے ڈرونز کو روکنا روایتی نظام کیلئےمشکل ہوتا جا رہا ہے۔

