تہران/واشنگٹن( رائٹرز، سدا نیوز)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرنے کا آپشن مسترد کر دیا گیا ہے جبکہ مذاکرات میں نقصانات کے معاوضے کا معاملہ بھی اہم ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر افزودہ یورینیم حاصل کرنے پر کام کرے گا اور یہ عمل جلد شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے 20 ارب ڈالر کے کسی معاہدے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کسی قسم کی مالی ادائیگی شامل نہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور جنگ کے خاتمے کیلئےپرامید ہے، تاہم حتمی معاہدے تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائیگی۔
واضح رہے کہ ایران کے پاس مبینہ طور پر 60 فیصد تک افزودہ 900 پاؤنڈ سے زائد یورینیم موجود ہے اور یہی معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سب سے پیچیدہ نکتہ سمجھا جا رہا ہے۔

