برامپٹن(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کی وفاقی حکومت نے جنوبی اونٹاریو کے وفاقی اقتصادی ترقیاتی ادارے کے ذریعے برامپٹن کے کاروباری شعبے کی مضبوطی، مسابقتی صلاحیت میں اضافے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے 52 لاکھ کینیڈین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
23 جون کو کیے گئے اس اعلان کے تحت سٹی آف برامپٹن کو دو نئے کاروباری پروگرام شروع کرنے کیلئے فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جن کا مقصد مقامی کاروباروں کو عالمی تجارتی چیلنجز سے نمٹنے، نئی ٹیکنالوجی اپنانے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
اس سرمایہ کاری کا اعلان برامپٹن سینٹر سے رکن پارلیمنٹ امندیپ سودھی نے وفاقی وزیر برائے مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل اختراع اور جنوبی اونٹاریو کے وفاقی اقتصادی ترقیاتی ادارے کے ذمہ دار وزیر ایون سولومن کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن، ارکانِ کونسل، برامپٹن ساؤتھ سے رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو سمیت 20 سے زائد مقامی کاروباری اداروں اور تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
علاقائی ٹیرف رسپانس پروگرام کے تحت 25 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے “برامپٹن بزنس گروتھ ایکسیلیریٹر” پروگرام شروع کیا جائے گا، جس کی قیادت “انویسٹ برامپٹن” کرے گا۔
اس پروگرام کے تحت کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں کی نشاندہی، مشاورتی خدمات، کاروباری ترقی، مارکیٹ سے متعلق معلومات اور نئی مصنوعات متعارف کرانے میں معاونت فراہم کی جائیگی۔ اس کے علاوہ ہوابازی ، دفاع اور جدید صنعتوں جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے، خریداری کے مواقع کیلئے تیاری، سپلائی چین کو مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور چھوٹے کاروباروں کی توسیع میں بھی مدد دی جائیگی۔
علاقائی مصنوعی ذہانت پروگرام کے تحت 27 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے سٹی آف برامپٹن، “بی ہائیو انوویشن اینڈ ٹریننگ ہب” کے اشتراک سے “بی نیکسٹ مصنوعی ذہانت پروگرام” شروع کرے گا۔
اس پروگرام کے ذریعے مقامی کاروباری اداروں، سپلائی چین سے وابستہ کمپنیوں، نئے کاروبار شروع کرنے والوں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے خواہش مند اداروں کو تربیتی ورکشاپس، انفرادی رہنمائی، عملی منصوبوں اور نمائشی مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنی پیداواری صلاحیت، جدت اور مسابقت میں اضافہ کر سکیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جو کاروباری ادارے اپنی استعداد بڑھانا، نئی منڈیوں میں داخل ہونا یا ترقی کے مزید مواقع حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ “انویسٹ برامپٹن” سے مشاورتی خدمات، وسائل اور مختلف پروگراموں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن نے کہا کہ برامپٹن کینیڈا کی تیزی سے ترقی کرنیوالی مضبوط معاشی قوتوں میں شامل ہے اور مقامی کاروباروں کو عالمی سطح پر مسابقت کیلئے درکار وسائل فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کاری مقامی کاروباروں کو مضبوط بنانے، نئی ٹیکنالوجی اپنانے، جدت کو فروغ دینے اور شہریوں کیلئےبہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
وفاقی وزیر برائے مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل اختراع ایون سولومن نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت میں کاروباروں کو مضبوط اور مسابقتی بنانے کیلئے معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری برامپٹن کے کاروباری اداروں کو مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور ترقی کے نئے مواقع حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
برامپٹن سینٹر سے رکن پارلیمنٹ امندیپ سودھی نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری برامپٹن کے کاروباری اداروں کو بدلتے ہوئے معاشی حالات میں خود کو ڈھالنے، ترقی کرنے اور عالمی مسابقت میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے گی، جبکہ مصنوعی ذہانت کے فروغ سے مقامی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔
برامپٹن سٹی کونسل کی اقتصادی ترقی کمیٹی کے چیئرمین اور ریجنل کونسلر گرپرتاپ سنگھ تور نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب مقامی صنعتوں کو جدت، ترقی اور عالمی منڈیوں میں مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط معاونت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے برامپٹن کی معاشی بنیاد مزید مستحکم ہوگی۔
اقتصادی ترقی کمیٹی کی نائب چیئر اور ریجنل کونسلر رووینا سانتوس نے کہا کہ وفاقی حکومت اور جنوبی اونٹاریو کے وفاقی اقتصادی ترقیاتی ادارے نے برامپٹن کی معاشی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں نئے پروگرام کاروباری اداروں کو سپلائی چین مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے لیے ضروری وسائل فراہم کریں گے۔
سٹی آف برامپٹن کی ڈائریکٹر اقتصادی ترقی ڈینیز میک کلور نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری کاروباری اداروں کو مشاورتی خدمات، خریداری کے مواقع، سپلائی چین اور جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے وہ ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر انداز سے مقابلہ کر سکیں گے۔
“بی ہائیو انوویشن اینڈ ٹریننگ ہب” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وکرم کھرانہ نے کہا کہ ان کا ادارہ کینیڈا کی قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی کے تحت برامپٹن کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں تک مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو پہنچانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “بی نیکسٹ مصنوعی ذہانت پروگرام” کے ذریعے مقامی کمپنیوں کے ساتھ عملی طور پر کام کر کے ان کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

