اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)مسی ساگا ایرن ملز سے رکن پارلیمنٹ اقرا خالد نے بزرگ خواتین کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو زندگی کے مختلف مراحل میں درپیش مشکلات بڑھاپے میں ان کی کمزوری اور عدم تحفظ کا سبب بنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی بیس کی دہائی میں ملازمت کے حصول میں رکاوٹیں، تیس کی دہائی میں خاندانی ذمہ داریوں کو ترجیح دینا، اور چالیس و پچاس کی دہائی میں صحت سے متعلق مسائل جیسے مینوپاز، ان کی معاشی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی عوامل خواتین کی پنشن میں کم شراکت کا باعث بنتے ہیں جس سے وہ ریٹائرمنٹ کے وقت مالی طور پر پیچھے رہ جاتی ہیں۔
اقرا خالد نے اس موقع پر کہا کہ بزرگ افراد، خصوصاً خواتین کے تحفظ کیلئےمالی سلامتی، ذاتی تحفظ اور باوقار زندگی تین اہم پہلو ہیں جن پر حکومتی سطح پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اس دوران محترمہ کوٹے (Ms. Cote) نے اقرا خالد کے سوال کے جواب میں کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین ریٹائرمنٹ کی عمر میں مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 26 فیصد کم آمدن کے ساتھ پہنچتی ہیں، جو ایک واضح نظامی مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین جب ان کے ادارے سے رجوع کرتی ہیں تو انہیں عموماً کم آمدن، جسمانی و ذہنی صحت کے مسائل اور غیر مستحکم رہائش جیسے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان مسائل کو ابتدا میں حل نہ کیا جائے تو خواتین بڑھاپے میں انتہائی کمزور اور غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔

