بلوچستان میں مسافر بس کھائی میں گر گئی، 40 افراد جاں بحق، 8 زخمی

کوئٹہ(نمائندہ خصوصی+نامہ نگار)بلوچستان کے ضلع شیرانی میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد کے قریب مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس دھنسار کے علاقے سے گزرتے ہوئے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں داخل ہونے کے بعد تقریباً 70 سے 80 فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے وقت بس میں 48 افراد سوار تھے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع ملتے ہی ژوب ایمرجنسی سروسز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال ژوب منتقل کیا گیا، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں بھی بعد ازاں اسی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق بس کوئٹہ سے 36 مسافروں کے ساتھ روانہ ہوئی تھی، تاہم راستے میں خراب ہونے والی ایک دوسری بس کے مسافر بھی اس میں سوار ہو گئے، جس کے باعث گاڑی میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود تھے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے سیکریٹری کو جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غفلت برداشت نہیں کی جائیگی اورایسے حادثات کی روک تھام کیلئے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق جاں بحق ہونیوالے 26 افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ چار خواتین، ایک بچے اور دو مردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور گورنر فیصل کریم کنڈی نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے، جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد دینے کی ہدایت کی ہے۔