برلن:جرمنی میں جاری ورلڈ یونیورسٹی گیمز کے دوران پاکستانی دستے کے دو ایتھلیٹس شازل احمد اور ندیم علی گزشتہ دو روز سے پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے ہیں۔ قومی دستے کی انتظامیہ کی جانب سے دونوں کھلاڑیوں کی تلاش اور رابطے کی کوششیں جاری ہیں تاہم تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پاکستانی وفد کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شازل احمد اور ندیم علی کاتعلق لاہورکے علاقے جوہرٹائون کی ایک نجی یونیورسٹی سے ہے، دو دن قبل کسی کو بتائے بغیر ٹیم کی رہائش گاہ سے روانہ ہوئے اور اب تک ان سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاسپورٹ اور دیگر تمام دستاویزات بشمول حلف نامہ اور یونیورسٹی NOC مینجر کے پاس موجود ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر فرار نہیں ہونا چاہتے تھے، بلکہ ممکنہ طور پر کسی ذاتی وجہ یا غیر متوقع واقعے کے باعث غائب ہوئے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی روانگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

دونوں کھلاڑیوں نے اپنے مقابلوں میں شیڈول کے مطابق حصہ لیا۔ دونوں کھلاڑیوں کی وطن واپسی کیلئے فلائٹ 28 جولائی کو ہے.نجی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر سپورٹس ارشد ستار ہیں تاہم وہ تائیکوانڈو ٹیم کے مینجر تھے جواپنا ایونٹ ختم ہونے کے بعد وطن واپس لوٹ آۓ جبکہ اتھلیٹکس ٹیم کے مینجر ایک دوسری نجی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر سپورٹس محمد مشتاق ہیں جن کی ذمے داری کھلاڑیوں کی نگرانی کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق ندیم علی نے نیشنل ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 100 میٹر کی دوڑ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، جب کہ شازل احمد بھی گولڈ میڈلسٹ نہیں ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کی پرفارمنس بھی مایوس کن رہی۔ ندیم ابتدائی ہیٹ میں آخری نمبر پر رہا جب کہ شازل بھی کوئی نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا۔ HEC کا واضح معیار ہے کہ صرف گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں کو ورلڈ یونیورسٹی گیمز کیلئےبھیجا جائے گا۔

پاکستانی دستے کے افسران اور منتظمین نے مقامی حکام سے رابطہ کر لیا ہے اور دونوں کھلاڑیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ جرمن پولیس کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ وہ نگرانی اور سراغ رسانی میں مدد فراہم کر سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے ورلڈ یونیورسٹی گیمز میں 42 رکنی وفد شریک ہے، جس میں 25 مرد و خواتین کھلاڑی اور 17 آفیشلز شامل ہیں۔ وفد کی وطن واپسی 28 جولائی کو متوقع ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی بین الاقوامی ایونٹ کے دوران پاکستانی کھلاڑی یا ایتھلیٹ لاپتا ہوئے ہوں، تاہم اس واقعے نے نہ صرف پاکستانی وفد کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ ملک کی ساکھ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کی بحفاظت واپسی کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

